لاہور ( پاک ترک نیوز) پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان چھیننے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،لاہور ہائی کورٹ نے درخواست کو اسی نوعیت کی زیر التوا انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ لگانے کی ہدایت کر دی ۔
جسٹس حسن نواز مخدوم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے شہری سلمی ریاض کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیئےجب انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے ایسے میں ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی نشان واپس لینا درحقیقت اس جماعت کو انتخابی عمل سے باہر کرنے اور عملی طور پر غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 17(1) کے تحت شہریوں کو انجمن سازی اور سیاسی جماعت بنانے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیاآرٹیکل 17(2) کے مطابق کسی سیاسی جماعت پر پابندی صرف مخصوص اور محدود آئینی بنیادوں پر ہی لگائی جا سکتی ہے۔ملکی سالمیت کے خلاف سرگرمی یا غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے ریاست مخالف مقاصد پر ہی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق متعدد عدالتی فیصلوں کی روشنی میں محترمہ بینظیر بھٹو، نواز شریف اور دیگر پر مقدمات ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کے وجود اور جمہوری عمل کے تحفظ کو بنیادی آئینی اصول قرار دیا گیا۔












