تہران ( پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمز سے سامنے آنے والی ایک خبر نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک امریکی اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا، تاہم واقعے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر نگرانی کے ایک مشن پر تھا جب اچانک حادثے کا شکار ہو گیا۔ عینی شاہدین نے دھماکے اور بعد ازاں ملبہ سمندر میں گرتے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
کچھ غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کسی حملے کا نشانہ بنا، جبکہ بعض ذرائع تکنیکی خرابی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کر رہے۔ فی الحال کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اپاچی اے ایچ 64 دنیا کے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر جدید میزائل سسٹمز، طاقتور ہتھیاروں اور جدید نگرانی کی صلاحیتوں سے لیس ہوتا ہے اور کئی دہائیوں سے امریکی فوج کی اہم فضائی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعے کے پیچھے کسی دشمن کارروائی کے شواہد ملتے ہیں تو اس کے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھی جاتی ہے، اور اسی وجہ سے اس علاقے میں پیش آنے والا ہر واقعہ بین الاقوامی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اس تحقیقات پر مرکوز ہیں جو اس حادثے کی اصل وجوہات سامنے لائیں گی۔












