ماسکو(پاک ترک نیوز)روس نے ایلون مسک کے اسٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کا مقابلہ کرنے کے لیے نیا سیٹلائٹ نظام راسویٹ 4 تیار کرنا شروع کردیا ہے، جسے مشکلات کا شکار راسویٹ 3 کا بہتر متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی ویب سائٹ ڈیفنس یو اے کی رپورٹ کے مطابق روس نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) میں راسویٹ 4 کے نام سے نئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔
منصوبے کے تحت 800 کلومیٹر بلندی پر 374 سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیجے جائیں گے۔ یہ سیٹلائٹس 17 مداری حصوں میں تقسیم ہوں گے اور ہر حصے میں 22 سیٹلائٹس موجود ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق راسویٹ 4 مکمل طور پر نیا نظام نہیں بلکہ راسویٹ 3 کا بہتر اور جدید ورژن ہوسکتا ہے۔ رواں سال مارچ اور جولائی میں دو لانچز کے ذریعے 32 راسویٹ 3 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گئے تھے، تاہم انہیں اپنے مقررہ مدار تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے دوسرا سیٹلائٹ مدار سے باہر ہوکر تباہ ہوگیا، جبکہ باقی 30 سیٹلائٹس بھی تاحال 800 کلومیٹر کی مطلوبہ بلندی پر اپنے مقررہ مقامات تک نہیں پہنچ سکے۔
آئی ٹی یو میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق راسویٹ 4 سیٹلائٹ میں 12 مواصلاتی بیم ہوں گی، جن میں سات سگنل بھیجنے اور پانچ سگنل وصول کرنے کے لیے استعمال ہوں گی۔
کمپنی بیورو 1440 نے تاحال راسویٹ 4 کی تیاری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم ستمبر میں کمپنی کے نمائندوں نے راسویٹ 3 کے بہتر ورژن پر کام کرنے کی تصدیق کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات،ٹرمپ کو دھچکا ،ڈیموکریٹس کی واضح فتح
رپورٹ کے مطابق نئے سیٹلائٹس کی لانچنگ آئندہ مشن میں بھی ممکن ہے، جبکہ روسی ڈرونز پر راسویٹ کے زمینی سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز سے مشابہ آلات بھی دیکھے گئے ہیں۔











