واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اسٹارلنک موبائل سروس کو آئندہ 2 سے 3 سال میں مکمل طور پر فعال کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی ٹیلی کام کمپنی ویریزون کے چیف ایگزیکٹو نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 4 سے 6 سال اور 300 سے 500 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی ضرورت کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ ڈبلیو سی سی ایف ٹیک کی رپورٹ کے مطابق ویریزون کے سربراہ نے کمپنی کی مالیاتی کارکردگی سے متعلق گفتگو کے دوران کہا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے موبائل سروس فراہم کرنے کے لیے زمینی نیٹ ورک، سیل ٹاورز، فائبر یا دیگر بیک ہال نظام، ریڈیو ایکسیس نیٹ ورک اور وسیع اسپیکٹرم کی ضرورت ہوگی۔ ان کے مطابق صرف سیٹلائٹس کی تعداد بڑھانے سے روایتی موبائل نیٹ ورکس کا مکمل متبادل بننا ممکن نہیں۔
ویریزون کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسپیس ایکس کو امریکا بھر میں تقریباً 65 ہزار سے 80 ہزار بڑے سیل سائٹس تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ ان کے اندازے کے مطابق زمینی نیٹ ورک کی تعمیر اور متعلقہ نظاموں کی تیاری میں کم از کم 4 سے 6 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ سرمایہ کاری 300 سے 500 ارب ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہری اور مضافاتی علاقوں میں، جہاں ویریزون کی تقریباً 98 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے، روایتی زمینی موبائل نیٹ ورک سیٹلائٹ پر مبنی نظام کے مقابلے میں 100 سے 1,000 گنا زیادہ مؤثر ہے۔ ان کے مطابق اسپیس ایکس کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ صارفین کی خدمات، فروخت اور دیگر انتظامی نظام بھی قائم کرنا ہوں گے۔
ویریزون کے سربراہ کے بیان کے جواب میں ایلون مسک نے کہا کہ اسٹارلنک موبائل 2 سے 3 سال میں مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔ اس طرح دونوں شخصیات کے بیانات میں سروس کی تیاری کے دورانیے پر نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔تاہم، مسک کی جانب سے بیان کردہ مدت ایک پیش گوئی ہے، جبکہ ویریزون کے سربراہ کا تخمینہ زمینی نیٹ ورک کی تعمیر اور آپریشنل ضروریات سے متعلق ہے۔ دونوں کے اندازوں کی حتمی درستگی کا تعین منصوبے کی پیش رفت اور سروس کی عملی کارکردگی سے ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اسٹارلنک موبائل کی پیش رفت میں اسپیکٹرم کی دستیابی ایک اہم عنصر ہے۔ اسپیس ایکس سیٹلائٹس کے ذریعے براہِ راست اسمارٹ فونز سے رابطہ قائم کرنے کے لیے اپنے خلائی نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے، تاہم روایتی موبائل سروس کی طرح سگنلز کی رسائی اور کارکردگی کے لیے موزوں زمینی اسپیکٹرم بھی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کا شاہی قلعہ میں سہ ملکی سیریز کی ٹیموں کے اعزاز میں عشائیہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس نے گرین نامی کمپنی کے ساتھ ملک گیر لو بینڈ اسپیکٹرم لائسنس پورٹ فولیو کے حصول کا معاہدہ کیا ہے، جس میں 800 میگاہرٹز بینڈ میں 14 میگاہرٹز تک پیئرڈ اسپیکٹرم شامل ہے۔ لو بینڈ فریکوئنسیز عموماً عمارتوں کے اندر اور نسبتاً طویل فاصلے پر سگنلز کی رسائی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں، اگرچہ حقیقی کارکردگی نیٹ ورک کی ترتیب، آلات اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس امریکا میں تقریباً 80 ہزار سیل سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ٹاور کمپنیوں سے مذاکرات کررہی ہے۔ ان کمپنیوں میں کراؤن کیسل بھی شامل ہے، جو امریکا میں سیلولر ٹاورز کی بڑی مالکان میں سے ایک ہے۔اس کے علاوہ امریکی فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن نے اسپیس ایکس کو 15 ہزار تک وی 2 یا جنریشن 2 سیٹلائٹس لانچ کرنے کی منظوری دی ہے، جو براہِ راست اسمارٹ فونز سے رابطے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں۔ تاہم، سیٹلائٹس کی منظوری اور حقیقی تجارتی سروس کی مکمل دستیابی دو الگ مراحل ہیں۔












