واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا دھچکا لگا ہے ، امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو برتری مل گئی۔ امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو لال جھنڈی دکھا دی۔
۔۔۔ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس228، ریپبلکنز136 نشستوں پر کامیاب،امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی54، ریپبلکنز کی43نشستیں، گورنرکےانتخابات میں ڈیموکریٹس کی 26 ریپبلکنز کی18سیٹیں، 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 اور سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے اکاون نشستیں درکار
امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلم امیدواروں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مشی گن سے عبدل السید پہلے مسلم سینیٹر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے اپنی کامیابی امریکی عوام کے نام کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ امریکا کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
عبدل السید کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز نے ابتدا ہی سے ان کے نام اور مذہب کو متنازع بنانے کی کوشش کی، تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ان کی کامیابی ہر امریکی کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احتساب کا اعلان بھی کیا۔
نیو جرسی سے ڈاکٹر آدم حموی پہلے مسلم رکنِ کانگریس منتخب ہوئے، جبکہ الینوائے سے ڈیموکریٹ امیدوار نبیلہ سید نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی۔
دوسری جانب الہان عمر نے ریاست منی سوٹا سے پانچویں مرتبہ کانگریس کی نشست جیت لی۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دی۔ الہان عمر 2019 سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہی ہیں اور صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔
جارجیا میں کیشا لانس باٹمز نے گورنر کا انتخاب جیت کر امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینو ہوزا کی کامیابی سے تقریباً 30 سال بعد ریاست میں ڈیموکریٹس کو گورنر کا منصب مل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی فاز میزائل کے کامیاب تجربے پر پاک فضائیہ کو مبارکباد
ساؤتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے کامیابی حاصل کی، جبکہ جارجیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف اور ورجینیا سے مارک وارنر بھی اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
ادھر الاسکا سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار ڈین سلیوان نے انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی دھوکا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ڈیموکریٹ حریف میری پیلٹولا کی انتخابی مہم پر عوام کو گمراہ کرنے اور دھوکا دینے کے الزامات بھی لگائے۔












