ماسکو ( پاک ترک نیوز) ایتھوپیا نے روس سے جدید جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس کے تحت مجموعی طور پر 12 ایس یو 35 جنگی طیارے اور چار ایس 400 فضائی دفاعی نظام حاصل کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی علاقے تیگرے میں دوبارہ لڑائی شروع ہوچکی ہے اور ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ بھی کشیدگی برقرار ہے۔ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے ماسکو میں روس افریقہ سربراہی اجلاس کے موقع پر اعلان کیا کہ روس کے ساتھ کئی سال پہلے طے پانے والے معاہدے کے تحت جنگی طیاروں کی فراہمی مقررہ وقت سے ایک سال پہلے شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس پیش رفت کو ملکی دفاعی صلاحیت میں اہم سنگ میل قرار دیا۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مجموعی معاہدے میں 12 ایس یو 35 طیارے شامل ہیں، تاہم روسی سرکاری اسلحہ برآمد کنندہ ادارے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں دو طیارے ایتھوپیا کی فضائیہ کے حوالے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار ایس 400 فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کیے جائیں گے، تاہم ان کی فراہمی کی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔ وزیراعظم ابی احمد کا کہنا تھا کہ جدید جنگی طیارے ملک کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے اور فضائی دفاع مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اپنی بقا اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدید دفاعی صلاحیتوں کا حصول ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ایل ون ریلوے منصوبے کا پہلا مرحلہ 2.1 ارب ڈالر کا ہوگا، 67 فیصد پٹڑیاں غیر محفوظ
ایس یو 35 روس کا جدید کثیرالمقاصد جنگی طیارہ ہے، جو فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایس 400 نظام طیاروں اور میزائلوں سمیت مختلف فضائی خطرات سے دفاع کے لیے تیار کیا گیا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کا امتزاج ایتھوپیا کو اہم شہروں اور بنیادی ڈھانچے، خصوصاً گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم جیسے اہم منصوبوں کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم فضائی دفاعی نظام ہر قسم کے حملے، خصوصاً چھوٹے اور کم قیمت ڈرونز، کے خلاف مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
روس اور ایتھوپیا کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک نے 2021 میں بھی فوجی تربیت اور دفاعی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کے لیے معاہدہ کیا تھا۔ ایتھوپیا اس سے قبل ترکیہ اور چین سے حاصل کردہ ڈرونز بھی مختلف فوجی کارروائیوں میں استعمال کرچکا ہے۔دوسری جانب شمالی ایتھوپیا کے علاقے تیگرے میں حکومت اور تیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ سے وابستہ مسلح عناصر کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے سے صورتحال کشیدہ ہے۔ یہ لڑائی 2022 میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کا حصہ ہے۔












