انقرہ ( پاک ترک نیوز)ترکیہ کی معروف دفاعی اور الیکٹرانکس کمپنی اسیلسان نے بیرونِ ملک ایک نامعلوم خریدار کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کے لیے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا معاہدہ کر لیا ہے۔کمپنی نے ترکیہ کے پبلک ڈسکلوزر پلیٹ فارم کو جاری کردہ اعلامیے میں معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ اسیلسان کے مطابق اس معاہدے سے کمپنی کی آمدنی میں اضافے کی توقع ہے، تاہم خریدار ملک کا نام، فراہم کیے جانے والے دفاعی نظاموں کی تفصیلات اور ترسیل کا شیڈول ظاہر نہیں کیا گیا۔
دفاعی شعبے کی عالمی درجہ بندی ڈیفنس نیوز ٹاپ 100 میں اسیلسان نے 2026 میں 43ویں سے 40ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ کمپنی پہلی ترک دفاعی فرم بن گئی ہے جو دنیا کی 40 بڑی دفاعی کمپنیوں میں شامل ہوئی، جبکہ فہرست میں شامل پانچ ترک کمپنیوں میں بھی اس کا پہلا نمبر ہے۔اسیلسان ترکیہ کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ریڈار، میزائل لانچرز، توپوں اور فائر کنٹرول سسٹمز سمیت مختلف دفاعی آلات تیار کرتی ہے۔ اس کا کورکوت فائر کنٹرول سسٹم 35 ملی میٹر طیارہ شکن توپوں اور حصار اے پلس مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کو مربوط کر سکتا ہے۔کمپنی کے حصار دفاعی نظام میں درمیانے فاصلے اور بلندی پر فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے حصار او بھی شامل ہے، جبکہ طویل فاصلے تک فضائی دفاع کے لیے ترکیہ کے سیپر نظام کی تیاری میں بھی اسیلسان، دفاعی کمپنی روکیتسان اور سائنسی و تکنیکی تحقیق کے ادارے کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کی مالی امداد بند کرنے کا عندیہ
ترکیہ کے دفاعی صنعتوں کے ادارے کے مطابق سیپر نظام لڑاکا طیاروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سمیت مختلف فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔












