یروشلم (پاک ترک نیوز )اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے انتخابات کے باضابطہ نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کر دیے، جس کے بعد اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے۔
صدارتی محل میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر اسحاق ہرزوگ نے سینٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ سے انتخابی نتائج وصول کیے اور ان کی منظوری دی۔
اس موقع پر ہرزوگ نے کہا کہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنا جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ اب وہ پارلیمنٹ کے کسی رکن کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کے معاملے پر مشاورت کریں گے۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے اس موقع پر عرب برادری کے خلاف سامنے آنے والے نسل پرستانہ اور توہین آمیز بیانات کی بھی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کمیونٹی کو انتخابی تحقیقات کی آڑ میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور اسرائیل میں ایسی زبان کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شین بیٹ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ عرب اکثریتی علاقوں میں مبینہ دھاندلی اور بیرونی مداخلت کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اسرائیلی صدر نے شین بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی اور اٹارنی جنرل کے درمیان تحقیقات کے طریقہ کار پر اختلافات کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے دونوں سے بات کی ہے اور وہ دونوں کا احترام کرتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی غیر یقینی صورت حال بھی برقرار ہے۔ ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے ہر وعدے پر اصرار کرنے کے بجائے سمجھوتے اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔












