پشاور (پاک ترک نیوز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ، وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور 27 ستمبر کو لانگ مارچ کریں گے، احتجاج کا آئینی حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ لانگ مارچ ہر صورت ہو گا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےسہیل آفریدی نے انتشاری سیاست کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام آئینی اور سیاسی راستے اختیار کیے گئے، لیکن شنوائی نہ ہونے پر لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً دو سال گزرنے کو ہیں، اس دوران کوئی لانگ مارچ یا احتجاج نہیں کیا گیا، ہم چور دروازے سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 27 ستمبر کو باہر نکلیں گے، کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز عمران خان کی تینوں بہنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ انہیں عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد سے پارٹی کارکنوں کے خلاف جبر کا سلسلہ جاری ہے اور بے گناہ کارکنوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے نہیں جا رہے اور قانون و امن کی صورتحال کو کبھی ہاتھ میں نہیں لیں گے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہیں دہشت گردوں کی طرح برتاؤ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم دہشت گرد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں اُکسایا جا رہا ہے، لیکن اسلام آباد آنے والے کارکن دہشت گردوں کے انداز میں نہیں بلکہ سیاسی کارکنوں کے طور پر آئیں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے پر ہر طرف پاکستان کے پرچم ہوں گے، وہ سیاسی لوگ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما بتائیں، احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کیا راستہ رہ جاتا ہے؟











