لاہور( پاک ترک نیوز) یہ وہ شہر ہے جہاں کوئی شور نہیں ہوتا۔۔۔نہ بازار، نہ ٹریفک، نہ آوازیں۔۔۔صرف قبریں ہیں، خاموشی ہے اور انسان کی آخری منزل!لیکن سوال یہ ہے کہ جس شہرِ خاموشاں کو شہریوں کے لیے باعزت اور منظم تدفین کی مثال بنانا تھا، کیا وہ خود خاموشی کی نذر ہوگیا؟چند سال پہلے پنجاب میں ایک ایسا منصوبہ شروع کیا گیا جس کا مقصد تھا کہ کسی گھر میں موت آئے تو لواحقین کو میت کے غسل، کفن، جنازے اور تدفین کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔
شہرِ خاموشاں میں میت کی منتقلی، غسل، جنازہ گاہ، وضو خانے، انتظار گاہ اور دیگر سہولتیں ایک ہی جگہ فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔لاہور کے سندر روڈ رائے ونڈ ماڈل قبرستان میں ایک لاکھ نہیں بلکہ 127 کنال اراضی پر 12 ہزار سے زائد قبروں کی گنجائش رکھی گئی تھی، جبکہ ایمبولینس کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔لیکن وقت گزرتا گیا۔۔۔منصوبے پھیلنے کے بجائے کئی جگہوں پر سہولتوں اور انتظامی نظام کے سوالات اٹھنے لگے۔سب سے بڑا سوال لاہور میں لاوارث میتوں کی تدفین کا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شہرِ خاموشاں کا منصوبہ ایک منظم حل کے طور پر سامنے آیا تھا، مگر بعد میں لاوارث میتوں کی تدفین کے لیے دیگر جگہوں کا سہارا لینا پڑا۔سگیاں کے قریب ایک نجی زمین پر بھی لاوارث میتوں کی تدفین کی جا رہی ہے، جہاں رپورٹ کے مطابق 1500 سے زائد میتیں دفن کی جا چکی ہیں۔یعنی سوال صرف قبر کا نہیں۔۔۔سوال اس انسان کا ہے جس کے مرنے کے بعد بھی کوئی اسے پہچاننے والا موجود نہیں!
یہ بھی پڑھیں: کرکٹر رضوان کی میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت کی درخواست مسترد
اور معاملہ صرف لاہور تک محدود نہیں۔پنجاب کے بعض اضلاع میں شہرِ خاموشاں کے منصوبوں کے غیر فعال ہونے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق فنڈز کی عدم فراہمی اور انتظامی توجہ میں کمی کے باعث بعض ماڈل قبرستان متاثر ہوئے، جبکہ وہاں تعینات عملے کو بھی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔زندگی میں انسان گھر، زمین اور سہولتوں کی تلاش میں بھاگتا رہتا ہے۔۔۔
لیکن آخرکار منزل صرف چھ فٹ زمین بنتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر اس آخری منزل کو بھی منظم، باوقار اور محفوظ نہ بنایا جاسکے تو پھر ایک شہری ریاست سے کیا توقع رکھے؟شہرِ خاموشاں صرف قبروں کا نام نہیں۔۔۔یہ زندہ معاشرے کی اس ذمہ داری کا امتحان ہے کہ وہ اپنے مُردوں کو بھی کس قدر عزت دیتا ہے۔











