نیویارک:(پاک ترک نیوز)وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاںانہوں نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں زبردستی اغوا کیا گیا ہے۔
یہ مادورو کا پہلا عوامی بیان تھا جو انہوں نے ہفتے کے روز ہونے والے امریکی فوجی آپریشن کے بعد دیا، جسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر مادورو کو ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے ہمراہ پیر کو امریکی ڈسٹرکٹ جج ایلون کے ہیلرسٹین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دونوں پر مبینہ طور پر “نارکو دہشتگردی” اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔عدالت میں پیشی کے وقت مادورو اور ان کی اہلیہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور دونوں نے نیلی جیل یونیفارم پہن رکھی تھی۔
عدالتی کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی جسے ہیڈفون کے ذریعے ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔
عدالت میں مادورو نے جج سے مخاطب ہو کر کہا:“مجھے اغوا کیا گیا ہے۔ میں بے گناہ ہوں، میں ایک شریف آدمی ہوں اور اپنے ملک کا صدر ہوں۔”عدالت کے باہر مظاہرین کے دو گروپ آمنے سامنے تھے، ایک گروہ امریکی کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا جبکہ دوسرا امریکی مداخلت کے حق میں نعرے لگا رہا تھا۔
پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ رکھا۔امریکی استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ مادورو، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد نے منشیات فروش کارٹلز کے ساتھ مل کر ہزاروں ٹن کوکین امریکا اسمگل کرنے میں سہولت کاری کی، جس پر انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مادورو کے خلاف اس الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔مادورو کے وکلا نے گرفتاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک خودمختار ریاست کے سربراہ ہیں اور انہیں استثنیٰ حاصل ہے، چاہے امریکا انہیں وینزویلا کا جائز صدر تسلیم نہ کرتا ہو۔
عدالت نے مادورو کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کر دی ہے۔











