واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی وہ حرکات، جو بظاہر مذاق لگ رہی تھیں، دراصل امریکا کے لیے آخری حد ثابت ہو گئیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، مادورو نے ایسے انداز اپنائے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو کھلی تمسخر آمیز للکار محسوس ہوئے۔
یہی وہ لمحہ تھا جس کے بعد واشنگٹن نے فیصلہ کن کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔دسمبر میں ایک تقریب کے دوران مادورو نے اپنی ہی تقریر کے الیکٹرانک ریمکس پر رقص کیا۔
گانے کے بول تھے:“No War, Yes Peace”لیکن یہ “امن” کا پیغام امریکا کے لیے طنز بن گیا۔
اس ڈانس میں مادورو کے انداز کو ٹرمپ کے مشہور اسٹائل کی نقل قرار دیا گیا، جسے امریکی حلقوں میں براہِ راست مذاق سمجھا گیا۔ مادورو یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ ٹرمپ صرف دھمکیاں دیتے ہیں، عملی قدم نہیں اٹھائیں گے۔لیکن یہی سوچ مہلک ثابت ہوئی۔
3 جنوری کو امریکی کمانڈوز نے کراکس میں مادورو کے کمپائونڈ پر دھاوا بولا،مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا کو گرفتار کرکے امریکا منتقل کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتاری کے بعد بھی مادورو کا انداز نہیں بدلا۔ہتھکڑیوں میں جکڑے سابق صدر نے پہلا جملہ کہا:“Happy New Year”۔یاد رہے کہ مادورو اس سے قبل جان لینن کا مشہور گانا “Imagine” بھی گا چکے تھے اور اسے “انسانیت کے لیے تحفہ” قرار دیا تھا۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک اور چونکا دینے والا بیان دے دیا۔ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کولمبین صدر کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کولمبیا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔ یہ سوال اب پوری دنیا پوچھ رہی ہے:کیا واقعی کسی صدر کا ڈانس ایک ملک پر فوجی حملے کی وجہ بن سکتا ہے؟یا یہ سب پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ تھا،جس میں مادورو کا رقص صرف آخری سین ثابت ہوا۔












