اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وولی میمتھ کو دوبارہ دنیا میں لانے کی کوشش کرنے والی بایوٹیک کمپنی کولوسل بایوسائنسز نے خطرے سے دوچار جانوروں کے تحفظ کے لیے بچوں کے مقبول کارٹون کردار ’پاؤ پٹرول‘ کو بھی اپنی مہم کا حصہ بنا لیا۔
امریکی کمپنی کولوسل بایوسائنسز، جو معدوم ہو جانے والے وولی میمتھ کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، نے بچوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے نئی مہم شروع کردی۔اس مہم میں پاؤ پٹرول کے مقبول کردار بچوں کو یہ پیغام دیں گے کہ ہر جانور کو بچانے کے لیے ہمیشہ کوئی ریسکیو ٹیم موجود نہیں ہوتی، اس لیے انسانوں کو خود زمین اور جانوروں کا محافظ بننا ہوگا۔مہم میں بچوں کو بتایا جا رہا ہے کہ جانوروں کے معدوم ہونے کی وجہ صرف قدرتی آفات یا بیماریاں نہیں، بلکہ انسانی سرگرمیاں بھی اس کی بڑی وجہ ہیں۔
کولوسل بایوسائنسز کا کہنا ہے کہ کمپنی جدید مصنوعی ذہانت اور بائیوٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے مختلف خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔کمپنی کے مطابق وہ ریڈ وولف سمیت دیگر جانوروں کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے، جبکہ جنگلی حیات کی آوازوں کو سمجھنے کے لیے اے آئی پر مبنی بائیو ایکوسٹک سینسرز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مقامی قبائل اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر 25 سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں گینڈوں اور مختلف اقسام کے ایمفیبیئنز کے تحفظ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
میمتھ کی واپسی کا منصوبہ سننے میں جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہاگر انسان معدوم انواع کو دوبارہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو قدرت کے نظام میں اس مداخلت کے نتائج کیا ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ،مسلم لیگ ن 31نشستوں کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’پاؤ پٹرول‘ کی اپنی ایک فلم بھی ڈائنوسارز کے گرد گھومتی ہے، جہاں بچوں کے یہ کردار معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار مخلوقات کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔یعنی کارٹون کی دنیا سے نکل کر۔۔۔اب ’پاؤ پٹرول‘ حقیقی دنیا میں بھی جانوروں کو بچانے کے مشن کا حصہ بن گیا ہے۔






