اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کتنی ہوگی؟ تعین کیسے کیا جائے گا؟ سپریم کورٹ میں اہم فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ،عدالت نے مجرم ندیم خان کی اپیل پر سماعت کے دوران دیت کی رقم کے تعین کے وقت اور طریقہ کار سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ندیم خان اپنی سزا پوری کرچکا ہے اور اب صرف دیت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے سزا کاٹ رہا ہے۔
پراسیکیوٹر خیبر پختونخوا ارشد حسین نے عدالت کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے، جبکہ دیت کی رقم کے تعین سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ دیت کی رقم کا تعین وقوعے کے وقت، گرفتاری کے وقت یا سزا سنائے جانے کے وقت کی شرح کے مطابق کیا جائے گا؟
پراسیکیوٹر ارشد حسین نے بتایا کہ موجودہ دور میں دیت کی رقم تقریباً ایک کروڑ 97 لاکھ روپے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی عمر کا تعین بھی گرفتاری کے وقت سے کیا جاتا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ قتل کرنا تھوڑا مہنگا ہو تو شاید لوگ رک جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں آج بھی دیت کے طور پر سو اونٹ دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت پر ٹرمپ سے اظہارِ تشکر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ وقت پر فیصلہ نہ ہونا نظام کی خرابی ہے، تاہم نظام کی خرابی کی سزا ملزم کو نہیں دی جاسکتی۔
عدالت نے تمام پراسیکیوٹرز کو دیت کی رقم کے تعین سے متعلق تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اہم سوال: سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ یہ ہے کہ دیت کی رقم کا تعین کس وقت نافذ شرح کے مطابق کیا جائے گا۔ عدالت کے فیصلے سے مستقبل میں ایسے مقدمات میں دیت کی رقم کے تعین کے طریقہ کار پر اہم قانونی رہنمائی مل سکتی ہے۔












