کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی کا ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس 21 روز گزرنے کے باوجود تاحال حل نہ ہوسکا، پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی تفتیشی ٹیم بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آنے کے باوجود میر رضا کے قتل کی وجوہات اور واقعے کے محرکات کا تعین نہیں کیا جاسکا، جبکہ پولیس کو اب ایپل واچ اور موبائل فون کے فرانزک تجزیے کا انتظار ہے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ میر رضا کو واقعے کے روز کس نے بلایا تھا اور وہ گلستان جوہر کیوں گیا تھا۔
پولیس کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی برقرار ہے کہ میر رضا کو لگنے والی گولی کس اسلحے سے فائر کی گئی، تاہم مبینہ قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ تاحال برآمد نہیں ہوسکا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا مشکوک موٹر سائیکل سوار اور کچرا چننے والا شخص بھی پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔
دوسری جانب فرانزک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا نے بھی دفاع میں فائرنگ کی تھی، جس نے تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس، قبر کشائی کے نمونوں کی کیمیکل رپورٹ آج متوقع
مقتول میر رضا کے ڈیجیٹل گیجٹس بھی تاحال لاہور نہیں پہنچ سکے، جن کے فرانزک تجزیے سے تحقیقات میں اہم پیش رفت کی امید ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ کیس کے سوالات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ میر رضا قتل کیس پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔












