اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 14 قیمتی جانوں کے ضیاع کے معاملے کے بعد ادارے کی نئی ایمرجنسی کو ٹھیکے پر دینے کے ٹینڈر کے عمل میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔
ایک شہری کی جانب سے وزیراعظم پورٹل پر درج کرائی گئی شکایت میں پمز کے ہیومن ریسورسز سے متعلق ٹینڈر کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو نوازا گیا۔شکایت کنندہ کے مطابق ٹینڈر میں کامیاب قرار دی جانے والی کمپنی ہیومن ریسورس سلوشن کے پاس ہسپتال اور صحت کے شعبے کے انتظامی امور کا مطلوبہ تجربہ موجود نہیں، جس کے باعث ٹینڈر کی تکنیکی جانچ پڑتال پر بھی تحفظات پیدا ہوگئے ہیں۔
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ کی جانب سے سیکیورٹی اور صفائی ستھرائی کے معاہدوں کو ہیلتھ کیئر یا ہسپتال مینجمنٹ کے تجربے کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم شکایت کنندہ کے مطابق ایسے معاہدوں کو ہسپتال اور ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کا مطلوبہ تجربہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔دستیاب معلومات کے مطابق ٹینڈر کے عمل میں ہیومن ریسورس سلوشن کو کامیاب قرار دیا گیا، جبکہ ایچ آر سی جی، آپٹک میڈیا اور ایس ایم سی کو نااہل قرار دیا گیا۔شکایت کنندہ نے ٹینڈر کی تکنیکی جانچ کے عمل پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ مجاز اتھارٹی ٹینڈر کے پورے عمل کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کی پارلیمانی تحقیقات، حکومت نے تمام جماعتوں سے نام طلب کرلیے
شکایت میں وزارتِ صحت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ کی تکنیکی اہلیت، تجربے اور جمع کرائی گئی دستاویزات کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا کامیاب کمپنی ٹینڈر کی تمام مقررہ شرائط اور تکنیکی معیار پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری ادارے کے ٹینڈر میں قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری، شفافیت اور تمام بولی دہندگان کو یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔












