اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی مکمل انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق 26 اگست کو نرسری میں آگ لگنے کے وقت 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک محفوظ رہا۔انکوائری کمیٹی نے آگ لگنے کی وجہ کے ساتھ سانحے کے تباہ کن نتائج، ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا، فائر سیفٹی انتظامات اور انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ ذریعہ اے سی یونٹ نمبر دو کے قریب موجود بجلی کی کیبل تھی۔رپورٹ کے مطابق غیر معمولی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا مقامی برقی نقص کے باعث کیبل کی حفاظتی تہہ متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔
انکوائری میں آتش زنی، متعدد مقامات سے آگ لگنے، بیرونی برقی خرابی یا آکسیجن کے اخراج کو آگ کی وجہ قرار دینے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ انکیوبیٹر یا وارمر کو بھی آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ 15 سیکنڈ پر واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جبکہ چند ہی لمحوں میں فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بچانے کی کوشش شروع کردی۔چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے فوری کارروائی کی، نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود بچے کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔تحقیقاتی کمیٹی نے واضح کیا کہ شواہد اس الزام کی تائید نہیں کرتے کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 بج کر 39 منٹ 15 سیکنڈ تک گہرے دھوئیں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی بھی مکمل طور پر متاثر کردی تھی۔انکوائری میں نرسری کے حفاظتی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ دس بستروں کے یونٹ میں 15 انتہائی نازک نومولود بچے زیر علاج تھے، جبکہ متعدد بچے آکسیجن اور سانس کی معاونت پر انحصار کررہے تھے۔واقعے کے وقت صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں، جبکہ نومولود بچوں کے فوری اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی انتہائی محدود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے باقاعدہ منظور شدہ اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ طریقہ کار کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا سراغ لگانے، خطرے کی اطلاع دینے والے نظام اور خودکار آگ بجھانے والے نظام کی موجودگی بھی ثابت نہیں ہوسکی۔انکوائری کمیٹی نے بیرونی امداد کے ردعمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ظاہر ہوئی، بیرونی امداد کی اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی، امدادی عملہ 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ ہوا اور 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچا۔رپورٹ کے مطابق آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان یہ وقفہ ناقابل قبول تھا۔کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز ایسا مربوط ہنگامی کمانڈ نظام قائم کرنے کا ثبوت پیش نہیں کرسکا جو آگ کی اطلاع ملتے ہی خطرے کی نشاندہی، بیرونی امداد، انخلا اور امدادی کارروائی کو فوری طور پر فعال کرسکتا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق پمز نرسری کا سانحہ ایسے معلوم خطرات کے پس منظر میں پیش آیا جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت، وفاقی محتسب کی 2015 کی سفارشات اور 2025 میں پمز کی جانب سے فرسودہ فائر سیفٹی نظام کے اعتراف کے باوجود مؤثر اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد بھی بروقت آگ کی نشاندہی، الارم، برقی معائنے، انخلا، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان خامیوں کو نرسری سانحے سے پہلے جامع حفاظتی نظام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا خلا میں پہلا جنگی ہتھیار تعینات کرنے کا اعلان، چین اور روس کے لیے بڑا انتباہ
انکوائری کمیٹی نے معاملے میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے پر پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔رپورٹ میں اے سی یونٹ نمبر دو کی برقی تنصیب اور دیکھ بھال، ہنگامی راستوں میں ممکنہ رکاوٹ، سابقہ تنبیہات کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر سمیت چار پہلوؤں پر مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم مزید تحقیقات کے ذریعے ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
انکوائری کمیٹی نے فوری فائر سیفٹی اقدامات، برقی حفاظتی آڈٹ، مؤثر آگ بجھانے اور انخلا کے نظام، نومولود بچوں کے لیے خصوصی ہنگامی طریقہ کار اور باقاعدہ فائر ڈرلز کرانے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے قرار دیا کہ 14 نومولود بچے صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی سے جاں بحق نہیں ہوئے بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کی مؤثریت کی تصدیق نہ کیے جانے کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔












