واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی فضائیہ کے خفیہ پرواز کی صلاحیت رکھنے والے بی ٹو اسپرٹ بمبار نے پہلی بار بحری جہاز شکن میزائل داغ کر تاریخ رقم کردی۔ کارروائی بحرالکاہل میں گوام سے 200 بحری میل سے زائد فاصلے پر کی گئی، جہاں ریٹائرڈ امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس جوناؤ کو نشانہ بنایا گیا۔27 جون 2026 کو ہونے والی اس کارروائی میں بی ٹو اسپرٹ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والا بحری جہاز شکن میزائل داغا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بی ٹو بمبار کی جانب سے اس نوعیت کے میزائل کے استعمال کا باقاعدہ طور پر اعتراف کیا گیا۔
یہ کارروائی کثیر ملکی فوجی مشق کے دوران کی گئی، جس کا مقصد مختلف افواج کے درمیان مشترکہ اہداف کو نشانہ بنانے اور سمندری جنگ کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔یو ایس ایس جوناؤ کو 1969 میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ جہاز ویتنام جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کو واپس لانے کے مشن میں شریک رہا، 1989 میں الاسکا کے تیل کے بڑے حادثے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور خلیجی جنگ کے دوران بھی خدمات انجام دیں۔امریکی بحریہ نے 2008 میں اسے ریٹائر کردیا تھا۔ تقریباً 18 سال تک محفوظ مقام پر رکھنے کے بعد اسے گوام سے 200 بحری میل سے زائد فاصلے پر سمندر میں لے جایا گیا، جہاں اسے حقیقی جنگی مشق میں ہدف بنایا گیا۔یو ایس ایس جوناؤ کو غرق کرنے کے لیے صرف بی ٹو بمبار کا میزائل استعمال نہیں ہوا بلکہ مختلف ممالک اور امریکی افواج کے متعدد ہتھیار بھی آزمائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کا 500 کلومیٹر مار کرنے والا خطرناک میزائل
نیوزی لینڈ کے پی ایٹ اے طیارے سے دو ہارپون میزائل، جاپانی آبدوز سے تارپیڈو، ہیلفائر میزائل، ٹائپ 90 اور اے ایس ایم ٹو بحری جہاز شکن میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ امریکی بحری بیڑے کے جنگی طیارے بھی اس کارروائی میں شریک تھے۔بالآخر مسلسل حملوں کے بعد یو ایس ایس جوناؤ سمندر کی تہہ میں اتر گیا۔بی ٹو اسپرٹ کو بنیادی طور پر دشمن کے فضائی دفاع سے بچتے ہوئے انتہائی حساس اہداف تک پہنچنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مخصوص ڈیزائن اسے ریڈار پر تلاش کرنا انتہائی مشکل بناتا ہے۔اب اسی بمبار کو بحری جہاز شکن میزائل کے ساتھ استعمال کرکے امریکی فضائیہ نے سمندر میں موجود جنگی جہازوں کے خلاف ایک نئی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔یہ میزائل طویل فاصلے سے بحری اہداف کو تلاش اور نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ بی ٹو بمبار دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔












