منگل , 21 اپریل , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
ADVERTISEMENT
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضہ؟ ٹرمپ نے جنگ کا آپشن کھلا چھوڑ دیا

3 مہینے پہلے
A A
گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضہ؟ ٹرمپ نے جنگ کا آپشن کھلا چھوڑ دیا
Share on Facebookwhatsapp

واشنگٹن: (پاک ترک نیوز)امریکا نے پہلی بار کھل کر یہ عندیہ دیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر فوجی طاقت کا استعمال بھی ایک آپشن ہو سکتا ہے، جس پر یورپ اور کینیڈا نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ اپنے عوام کی ملکیت ہے، نہ کہ کسی طاقت کی جاگیر۔
وائٹ ہاؤس نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، اس لیے اسے حاصل کرنا امریکا کے لیے قومی سلامتی کی ترجیح ہے تاکہ آرکٹک خطے میں اپنے مخالفین کو روکا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق،“صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر اِن چیف امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے۔”
اگر امریکا نے نیٹو کے دیرینہ اتحادی ڈنمارک سے گرین لینڈ چھیننے کی کوشش کی تو اس سے نیٹو اتحاد میں شدید زلزلہ آ سکتا ہے اور ٹرمپ و یورپی قیادت کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جائے گی، تاہم یورپی مخالفت بھی ٹرمپ کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں کر سکی۔
ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی پہلی بار 2019 میں ان کی پہلی صدارت کے دوران سامنے آئی تھی، مگر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکا کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یہ معاملہ دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
اس کارروائی کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ“مغربی نصف کرے میں امریکی بالادستی پر اب کبھی سوال نہیں اٹھایا جائے گا”،اور اسی تناظر میں انہوں نے کولمبیا اور کیوبا پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ وہاں روسی اور چینی جہاز موجود ہیں، جبکہ ان کے بقول ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ، جس کی آبادی صرف 57 ہزار کے قریب ہے، کئی بار واضح کر چکا ہے کہ وہ امریکا کا حصہ بننا نہیں چاہتا۔
تاہم یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان اس کی اسٹریٹجک پوزیشن اسے امریکی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے، جبکہ اس کے معدنی ذخائر چین پر انحصار کم کرنے کی امریکی حکمتِ عملی سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے بعد فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کے رہنماؤں نے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ“گرین لینڈ اس کے عوام کی ملکیت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو کرنے کا حق ہے۔”
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بھی ڈنمارک کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی گورنر جنرل میری سائمن، جو خود انوئٹ نسل سے تعلق رکھتی ہیں، اور وزیرِ خارجہ انیتا آنند آئندہ ماہ کے آغاز میں گرین لینڈ کا دورہ کریں گی۔
ادھر فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ نے بھی الگ بیان میں گرین لینڈ کے خودمختار فیصلے کے حق پر زور دیا اور کہا کہ آرکٹک سیکیورٹی میں سرمایہ کاری بڑھا دی گئی ہے، جبکہ امریکا اور نیٹو اتحادیوں سے مشاورت کے لیے آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا کہ نیٹو کے کسی رکن کو دھمکیاں دینا اتحاد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ“اگر نیٹو کے ارکان ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے لگیں تو اتحاد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔”
گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے یورپی ممالک کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکا سے “باعزت اور سنجیدہ مکالمے” کا مطالبہ دہرایا۔
ڈنمارک نے بھی ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ وہ گرین لینڈ کا دفاع نہیں کر سکتا۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارز لوکے راسموسن نے کہا کہ“ہم اس تصور سے اتفاق نہیں کرتے کہ گرین لینڈ چینی سرمایہ کاری یا جنگی جہازوں سے بھرا ہوا ہے”،البتہ انہوں نے امریکا کو جزیرے میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے ڈنمارک کی خودمختاری پر خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ“حقیقی دنیا طاقت، قوت اور دباؤ سے چلتی ہے۔”جب ان سے فوجی کارروائی کے امکان پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا:“گرین لینڈ کے مستقبل پر کوئی امریکا سے فوجی جنگ نہیں لڑے گا۔”تاہم امریکی کانگریس کے بعض ارکان، بشمول ٹرمپ کی اپنی جماعت کے سینیٹرز، نے اس مؤقف کی مخالفت کی۔ سینیٹر جین شاہین اور تھام ٹلس نے کہا کہ“جب ڈنمارک اور گرین لینڈ واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں، تو امریکا کو اپنے معاہدوں کا احترام اور ڈنمارک کی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے۔”یہ تنازع ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ گرین لینڈ مستقبل کی عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

موضوعات : denmarkDonald TrumpGreenland
ShareSend

متعلقہ خبریں

ایران جنگ پر اختلافات کی خبریں، ٹرمپ نے عسکری قیادت سے متعلق دعوؤں کو جھوٹا قرار دیدیا
اہم ترین

ایران جنگ پر اختلافات کی خبریں، ٹرمپ نے عسکری قیادت سے متعلق دعوؤں کو جھوٹا قرار دیدیا

24 فروری , 2026
ٹرمپ کا ایران کو 10 سے 15 دن کا الٹی میٹم، منہ توڑ جواب دیں گے، تہران کا دوٹوک اعلان
اہم ترین 2

ٹرمپ کا ایران کو 10 سے 15 دن کا الٹی میٹم، منہ توڑ جواب دیں گے، تہران کا دوٹوک اعلان

20 فروری , 2026
طیارہ بردار جہاز نہیں، اسے ڈبونے کی قوت اصل طاقت ہے: آیت اللہ خامنہ ای کا سخت پیغام
اہم ترین 3

طیارہ بردار جہاز نہیں، اسے ڈبونے کی قوت اصل طاقت ہے: آیت اللہ خامنہ ای کا سخت پیغام

18 فروری , 2026
ایران کے خلاف امریکی کارروائی چند ہفتوں میں متوقع، ٹرمپ کے قریبی سینیٹر کا سخت انتباہ
اہم ترین 2

ایران کے خلاف امریکی کارروائی چند ہفتوں میں متوقع، ٹرمپ کے قریبی سینیٹر کا سخت انتباہ

17 فروری , 2026
ایران۔امریکا جوہری مذاکرات: ٹرمپ کا بالواسطہ شمولیت کا اعلان، ناکامی پرجنگ کا عندیہ
اہم ترین

ایران۔امریکا جوہری مذاکرات: ٹرمپ کا بالواسطہ شمولیت کا اعلان، ناکامی پرجنگ کا عندیہ

17 فروری , 2026
ٹرمپ کی ناکہ بندی عالمی سمندروں تک پھیل گئی، امریکی فوج کا بھارتی سمندر میں تیل بردار جہاز پر دھاوا
تازہ ترین

ٹرمپ کی ناکہ بندی عالمی سمندروں تک پھیل گئی، امریکی فوج کا بھارتی سمندر میں تیل بردار جہاز پر دھاوا

16 فروری , 2026
اگلی خبر
Saudi-led coalition airstrikes in Yemen, STC chief al-Zubaidi flees

یمن میں سعودی اتحاد کے فضائی حملے، ایس ٹی سی سربراہ الزبیدی فرار

یہ بھی پڑھیں

ڈیل نہ ہوئی تو بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے ،ڈونلڈ ٹرمپ

ڈیل نہ ہوئی تو بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے ،ڈونلڈ ٹرمپ

20 اپریل , 2026
  اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

  اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

20 اپریل , 2026
وزیراعظم شہبازشریف سے یورپی کونسل کے صدر کا رابطہ

وزیراعظم شہبازشریف سے یورپی کونسل کے صدر کا رابطہ

20 اپریل , 2026
امریکی صدر کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور، امریکی وفد پاکستان پہنچ رہا ہے ،ٹرمپ

امریکی صدر کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور، امریکی وفد پاکستان پہنچ رہا ہے ،ٹرمپ

20 اپریل , 2026
امریکا نے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

امریکا نے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

20 اپریل , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔