ریاض/عدن: (پاک ترک نیوز)سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں فضائی حملے کیے ہیں۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علیحدگی پسند فورسز کے خلاف اس وقت کی گئی جب سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی ریاض جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے بجائے فرار ہو گئے۔
اتحاد نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا کہ ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی کو منگل کی رات یمنی شہر عدن سے ریاض جانا تھا، جہاں ان کے گروپ اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہونا تھے۔
تاہم الزبیدی طے شدہ پرواز میں سوار نہ ہوئے اور “نامعلوم مقام کی جانب فرار” ہو گئے۔ بیان کے مطابق اس وقت ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہو سکا۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس دوران اسے اطلاعات ملیں کہ الزبیدی نے ایک بڑی مسلح فورس کو متحرک کیا، جس میں بکتر بند اور جنگی گاڑیاں، بھاری و ہلکا اسلحہ اور گولہ بارود شامل تھا۔
بیان کے مطابق یہ فورس آدھی رات کے قریب عدن سے روانہ ہوئی اور بعد میں صوبہ الضالع میں اس کی نشاندہی کی گئی۔ اتحاد نے مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے “پیشگی فضائی حملے” کیے تاکہ ان فورسز کو ناکارہ بنایا جا سکے اور الزبیدی کی جانب سے تنازع کو مزید بڑھانے کی کوشش ناکام بنائی جا سکے۔
تاحال سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی جانب سے اس بیان پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ ایس ٹی سی نے ابتدا میں شمالی یمن پر قابض حوثی باغیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی تھی، تاہم دسمبر میں اس گروپ نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے خلاف کارروائی شروع کر دی، جس کا مقصد جنوبی یمن میں ایک آزاد ریاست کا قیام ہے۔
اس گروپ کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔ ایس ٹی سی کی پیش قدمی نے برسوں سے جاری تعطل کو توڑ دیا، اور اس نے سعودی عرب کی وارننگز کے باوجود جنوبی یمن کے وسیع علاقوں، جن میں حضرموت اور المہرہ کے صوبے شامل ہیں، پر قبضہ کر لیا۔
حضرموت سعودی عرب کی سرحد سے متصل ہے جبکہ المہرہ بھی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ دونوں صوبے مجموعی طور پر یمن کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہیں۔ریاض نے اس صورتحال کے جواب میں 30 دسمبر کو یمنی بندرگاہ المکلا پر فضائی حملے کیے، جن میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے منسلک اسلحہ کی ترسیل کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی عرب نے یمن کی حکومت کے اس مطالبے کی بھی حمایت کی کہ اماراتی افواج ملک سے نکل جائیں۔ابوظہبی نے اس الزام کی تردید کی کہ اس ترسیل میں اسلحہ موجود تھا، اور ریاض کی سلامتی کے عزم کا اظہار کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد یو اے ای نے یمن میں اپنی “انسداد دہشت گردی مہم” کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
بعد ازاں یمنی حکومتی افواج نے سعودی فضائی مدد سے حضرموت اور المہرہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ ایس ٹی سی نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کرے گی۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے بدھ کو بتایا کہ ایس ٹی سی کا وفد—الزبیدی کے بغیر—بدھ کی علی الصبح یمن سے ریاض روانہ ہو گیا۔ادھر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اعلان کیا کہ عیدروس الزبیدی کو “سنگین غداری” کے الزام میں کونسل سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
رشاد العلیمی نے کہا کہ انہوں نے ملک کے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی ہے کہ الزبیدی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔












