واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکا اور ایران جنگ کے اثرات کے باعث جاپان اور چین نے امریکی ٹریژری بانڈز میں بڑی کمی کر دی، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے کرنسیوں پر دباؤ بڑھا دیا اور مرکزی بینکوں کو اپنے ڈالر ذخائر فروخت کرنا پڑے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے مارچ میں امریکی ٹریژری بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری کم کر کے 652.3 ارب ڈالر تک کر دی، جو فروری کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہے اور ستمبر 2008 کے بعد کم ترین سطح ہے۔
امریکی سرکاری قرض کا سب سے بڑا غیر ملکی مالک جاپان بھی تقریباً 47 ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کر کے اپنی مجموعی ہولڈنگ 1.191 کھرب ڈالر تک لے آیا۔ مجموعی طور پر غیر ملکی ممالک کی امریکی ٹریژری ہولڈنگز فروری کے 9.49 کھرب ڈالر سے کم ہو کر مارچ میں 9.25 کھرب ڈالر رہ گئیں۔
یہ فروخت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے جاپانی ین سمیت کئی ایشیائی کرنسیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ خلیجی ممالک سے تیل درآمد کرنے والی معیشتوں، خصوصاً جاپان، کو دہائیوں کے سب سے بڑے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث پالیسی سازوں نے اپنی مقامی کرنسیوں کو سہارا دینے کیلئے ڈالر میں موجود اثاثے فروخت کیے۔
ایچ ایس بی سی کے چیف ایشیا اکنامسٹ فریڈرک نیومن نے کہا کہ خلیجی جنگ کے آغاز کے بعد مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اور ایشیائی کرنسیوں پر دباؤ کے باعث امریکی ٹریژری ہولڈنگز میں کمی حیران کن نہیں۔
ان کے مطابق، مقامی کرنسیوں کو سہارا دینے کیلئے مرکزی بینکوں نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کی، جس کیلئے امریکی ٹریژری بانڈز کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ جاری ہونے والے اپریل کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوگا کہ مرکزی بینک اپنی کرنسیوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
مارکیٹ میں دباؤ کے دوران پالیسی ساز عموماً اپنے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں تبدیلی کرتے ہیں۔ بعض فروخت بڑھتی مہنگائی اور بانڈز کی گرتی قیمتوں کے خدشات کے باعث بھی کی گئی تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری نقدی دستیاب ہو سکے۔
امریکی ٹریژری بانڈز پہلے ہی دباؤ میں ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں اور سرمایہ کار امریکی قرض رکھنے کے بدلے زیادہ منافع مانگ رہے ہیں۔
مارچ میں صرف طویل مدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی قیمتوں میں کمی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تقریباً 142.1 ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
اس رجحان کے برعکس برطانیہ نے مارچ میں تقریباً 29.6 ارب ڈالر کے مزید امریکی بانڈز خریدے، جس سے اس کی مجموعی ہولڈنگ 926.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
چین 2013 میں تقریباً 1.3 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح کے بعد سے مسلسل امریکی ٹریژری بانڈز میں اپنی براہِ راست سرمایہ کاری کم کر رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار چین کی اصل سرمایہ کاری کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
بیلجیئم اور لکسمبرگ جیسے مالیاتی مراکز کو اکثر چینی سرکاری ویلتھ فنڈز اور ریاستی سرمایہ کاری کے خفیہ راستوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سینئر ماہر معاشیات تیان چن شو کے مطابق اگر ان “خفیہ ہولڈنگز” کو شامل کیا جائے تو چین کی مجموعی امریکی قرض میں سرمایہ کاری نسبتاً مستحکم دکھائی دیتی ہے۔












