ٹوکیو : (پاک ترک نیوز)جاپان میں بنایا گیا یہ انجن 30 فیصد ہائیڈروجن اور 70 فیصد قدرتی گیس کے امتزاج پر چل سکتا ہے۔
یہ انجن مکمل ہائیڈروجن پر تو نہیں چل سکتا، لیکن 30 فیصد ہائیڈروجن کا امتزاج اسے موجودہ بجلی گھروں میں قدرتی گیس کے ساتھ باآسانی متعارف کرانے کے قابل بناتا ہے۔
اس سے نا صرف سرمایہ کاری کی بچت ہوگی بلکہ موجودہ پاور پلانٹس کی عمر بڑھانے اور آہستہ آہستہ فیول کی ڈی کاربونائزیشن ممکن ہوگی۔
انجن کی تصدیقی جانچ اکتوبر 2024 ء تا ستمبر 2025 ء تک کی گئی، جس میں ہائیڈروجن سپلائی چین، مینٹیننس، اور حفاظتی پروٹوکولز کے ساتھ لیک ڈیٹیکشن اور فیول لائنز کے لیے نائٹروجن پرج سسٹمز کی جانچ بھی شامل تھی۔
ہائیڈروجن مالیکیولز انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور دھاتوں کو کمزور کر سکتے ہیں، اس لیے حفاظتی انتظامات لازمی تھے۔
اسی دوران، جاپان نے سمندری شعبے میں بھی ہائیڈروجن انجن کے تجربات مکمل کیے ہیں۔ Kawasaki، Yanmar، اور Japan Engine Corporation نے لینڈ بیسڈ اور شپنگ کے لیے ہائیڈروجن انجن کی کامیاب آزمائش کی، جس میں درمیانے رفتار کے فور اسٹروک انجنوں نے مستحکم ہائیڈروجن کمبشن دکھایا۔
مستقبل قریب میں بڑے بحری جہازوں کے لیے دو اسٹروک ہائیڈروجن انجن کی بھی تیاری مکمل ہو جائے گی۔یہ تمام پروجیکٹس جاپان کے گرین انوویشن فنڈ کے تحت چل رہے ہیں، جس کے لیے حکومت نے تقریباً 2 ٹریلین ین (13 بلین امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں، تاکہ 2050 ء تک کاربن نیوٹرل معیشت حاصل کی جا سکے۔
ہائیڈروجن سپلائی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی جاری ہے، جس میں Kawasaki LH2 Terminal شامل ہے، جو 50,000 کیوبک میٹر لیکوئفائیڈ ہائیڈروجن ذخیرہ کرے گا اور دنیا کا سب سے بڑا ہوگا۔
یہ ہائیڈروجن درآمد اور بحری جہازوں کے لیے bunkering ہب کے طور پر کام کرے گا۔
KG سیریز کے ابتدائی صارفین کے سامنے تین راستے ہیں: محدود مقامی ہائیڈروجن حاصل کرنا، انجن کو صرف قدرتی گیس پر چلانا، یا مستقبل کے لیے انتظار کرنا۔ یہ ٹیکنالوجی جاپان کے توانائی کے مستقبل میں ہائیڈروجن کے کردار کو واضح کرتی ہے اور عالمی سطح پر صاف توانائی کے انقلاب کی راہ ہموار کرتی ہے۔












