ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) مریخ کا سفر اب پہلے سے آسان ،جاپان نئی ٹیکنالوجی لے آیا۔
جاپان نے خلا میں نئی انجن ٹیکنالوجی کا تجربہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا ،یہ مریخ مشنز کو ہلکا اور مؤثر بنانے کی سمت اہم پیش رفت ،جاپان نے خلا میں ایک ایسا انجن آزمایا ہے جو مسلسل ڈیٹونیشن یعنی دھماکہ خیز احتراق کے اصول پر کام کرتا ہے۔ یہ انجن ایتھانول اور نائٹرس آکسائیڈ کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے تاکہ مستقبل کے مشنز کو زیادہ ہلکا اور مؤثر بنایا جا سکے،۔
یہ پیش رفت جاپان کی خلائی ٹیکنالوجی میں اہم قدم ہے، جو اس بات پر زور دیتی ہے کہ مستقبل میں خلائی مشنز کے لیے چھوٹے، ہلکے اور زیادہ کارکردگی والے انجن تیار کیے جائیں تاکہ ایندھن کی مقدار کم اور کارکردگی زیادہ ہو سکے۔
جاپان کی خلائی ایجنسی نے ایک نیاروٹیٹنگ ڈیٹونیشن انجن خلا میں آزمایا تھا، جس میں مائع ایندھن استعمال کیا گیا۔ یہ تجربہ 14 نومبر 2024 کو ساؤنڈنگ راکٹ کے ذریعے کیا گیا۔ اس میں جاپانی یونیورسٹیوں کے اشتراک سے تیار کردہ دوسرا ورژن “DES2” خلا میں ٹیسٹ کیا گیا۔
اس انجن میں دہن کا عمل ایک مسلسل حرکت کرتی ہوئی جھٹکے دار لہر کے ذریعے ہوتا ہے، جو ایندھن کو جلانے کے ساتھ ساتھ طاقت پیدا کرتی ہے۔ یہ طریقہ روایتی انجنوں سے مختلف ہے، کیونکہ روایتی انجنوں میں دہن پورے چیمبر میں ایک ساتھ ہوتا ہے، جبکہ اس نئے نظام میں زیادہ کمپیکٹ اور مؤثر طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا فائدہ یہ ہے کہ کم جگہ میں زیادہ ایندھن ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، جو خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ہر کلوگرام وزن اور ہر سینٹی میٹر جگہ مشن کی لاگت اور کامیابی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جاپانی خلائی ایجنسی نے کہا نئی ٹیکنالوجی نے مستقبل میں ہلکے اور زیادہ مؤثر خلائی مشنز کو ممکن بنایا ، مریخ کی فضا بہت پتلی ہے، جس کی وجہ سے خلائی گاڑیوں کو لینڈنگ سے پہلے رفتار کم کرنا مشکل ہوتا ہے ،نیا سسٹم اس مسئلے کے حل کے لیے بنایا گیا ہ ، جو فضا کے ساتھ رابطے کا رقبہ بڑھا کر مزاحمت میں اضافہ کرتا ہے اور اسے رفتار کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔












