واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی محکمہ دفاع نے جرمنی میں قائم یوکرین کو فوجی امداد کی فراہمی اور تربیت کی نگرانی کرنے والے اتحاد کی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ، جسے امریکا کی جانب سے یورپی اتحادیوں کو مزید ذمہ داریاں منتقل کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق جرمنی کے شہر ویسباڈن میں قائم یوکرین سلامتی معاونت گروپ کی قیادت آئندہ کسی یورپی رکن ملک کے سپرد کر دی جائے گی۔ یہ ادارہ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد سے یوکرینی افواج کو فوجی سازوسامان کی فراہمی، تربیت اور رسد کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قیادت کی منتقلی کا عمل تقریباً ایک سال میں مکمل ہوگا اور اس دوران امدادی سرگرمیوں میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ اگرچہ نیٹو اس نظام کی سربراہی سنبھالے گا، تاہم امریکی یورپی کمان ایک نائب عہدے کے ذریعے اس میں شریک رہے گی۔
امریکی محکمۂ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام اتحاد کے اندر ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور امریکی وسائل کو قومی دفاعی حکمتِ عملی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا جنگ میں فتح کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت یورپی ممالک پر اپنی دفاعی ذمہ داریاں بڑھانے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکا یورپ میں بعض فوجی ذمہ داریوں اور کمانوں کو برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور پولینڈ کے حوالے کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
نیٹو کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کسی یورپی یا کینیڈین افسر کا قیادت سنبھالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحادی ممالک اب زیادہ ذمہ داریاں قبول کر رہے ہیں، جبکہ یوکرین کی حمایت بدستور اتحاد کی ترجیحات میں شامل رہے گی۔
دوسری جانب یوکرین کے ایک عہدیدار نے اس تبدیلی کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا کی داخلی سیاسی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کم ہوں گے، تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیٹو کے پیچیدہ انتظامی طریقۂ کار کے باعث بعض اوقات فوجی امداد کی ترسیل کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی سیٹلائٹ معلومات، اہداف کی نشاندہی اور بھاری فوجی نقل و حمل کی صلاحیت کا متبادل فی الحال موجود نہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حالیہ نیٹو اجلاس میں اتحادی ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی ممالک اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود زیادہ مؤثر انداز میں نبھائیں۔












