کیف (پاک ترک نیوز) روس نے راسویٹ (Rassvet) فوجی سیٹلائٹ نظام کے تحت اب تک 32 سیٹلائٹس مدار میں پہنچا دیے ہیں، تاہم یہ تعداد مستحکم مواصلاتی نظام کے لیے کافی نہیں، یوکرین کی دفاعی انٹیلی جنس کے سربراہ اولیہ ایواشچینکو نے دعویٰ کیا ہے۔
یوکرینی خبر رساں ادارے کے مطابق، اولیہ ایواشچینکو نے کہا کہ روس سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن فی الحال ان کی تعداد کم اور کارکردگی محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین کو روسی سیٹلائٹس کی تعداد اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل ہیں، تاہم انہوں نے ان کے مدار، آپریشن کی فریکوئنسی اور یوکرین کے کن علاقوں میں کوریج سے متعلق تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یوکرینی انٹیلی جنس چیف کے مطابق روس کا راسویٹ سیٹلائٹ نیٹ ورک اسٹارلنک کے مقابلے میں اب بھی بہت پیچھے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک کے 12 ہزار سے زائد سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں، جبکہ ایلون مسک کی کمپنی ہر ماہ تقریباً 200 مزید سیٹلائٹس اپنے نیٹ ورک میں شامل کر رہی ہے۔اولیہ ایواشچینکو نے کہا کہ یوکرین اس معاملے پر کام کر رہا ہے اور روس کا راسویٹ منصوبہ بالآخر ناکام ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی دھمکیوں کے باوجود بھارت کو تیل فروخت کرینگے ،روس
دوسری جانب یوکرین نے باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) سے بھی رجوع کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ روس کے راسویٹ فوجی سیٹلائٹ نظام کی جانب سے اعلان کردہ تمام فریکوئنسی بینڈز کی کوریج سے یوکرینی سرزمین کو خارج کیا جائے۔












