کیف (پاک ترک نیوز) یوکرین نے آئندہ موسم سرما میں اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اتحادی ممالک سے 300 پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے بڑھتے ہوئے بیلسٹک میزائل حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے یہ میزائل ناگزیر ہیں۔
کولیشن آف دی ولنگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تین ماہ کے موسم سرما کے دوران ہر ماہ 100 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل درکار ہوں گے، یعنی مجموعی طور پر 300 میزائل۔ ان کے مطابق بروقت دفاعی تیاری نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملے کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کو ایسے میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے جو ان حملوں کو فضا میں تباہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط فضائی دفاع روس کی جنگی حکمت عملی کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ رواں موسم گرما روس کے لیے پہلے ہی انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے اور یوکرین اپنی درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی کارروائیاں مزید تیز کرے گا تاکہ ماسکو پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
صدر زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ یوکرین اور اس کے یورپی شراکت دار مشترکہ طور پر "فریجا” (Freyja) نامی نئے اینٹی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام پر کام کر رہے ہیں، جس کے آئندہ 12 ماہ کے اندر فعال ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جبلِ طارق اور اسپین کے درمیان 118 سال پرانا سرحدی نظام ختم، آزاد آمدورفت کے نئے دور کا آغاز
ان کے مطابق یوکرین اپنا انٹرسیپٹر میزائل تیار کر رہا ہے، جبکہ یورپی ممالک جدید ریڈار ٹیکنالوجی اور اہم دفاعی پرزے فراہم کریں گے، جس سے یورپ کے لیے زیادہ خودمختار فضائی دفاعی نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ روس، ایران اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون عالمی سطح پر بیلسٹک میزائل کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی کوشش ہے کہ یوکرینی شہروں پر مسلسل بیلسٹک حملوں کے ذریعے عوام کا حوصلہ توڑا جائے اور ملک کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کیا جائے۔












