لاہور( پاک ترک نیوز) امریکا اور اسرائیل نے ایران پر کتنے مہنگے ہتھیار استعمال کیے ، حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی ، امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائل استعمال کیے جس سے اس میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ گئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 1100 جے اے ایس ایس ایم-ای آر کروز میزائل استعمال کیے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر ہے اور اب امریکی میزائل ذخیرے میں ان کی تعدد صرف 1500 ہے۔
امریکی فوج نے 1000 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی داغے جن کی فی میزائل قیمت تقریباً 36 لاکھ ڈالر ہے۔ امریکا سالانہ بنیاد پر تقریباً 100 ٹوماہاک کروز کی خریداری کرتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق جنگ میں 1200 سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے گئے جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے۔ امریکا نے 2025 میں مجموعی طور پر تقریباً 600 پیٹریاٹ میزائل تیار کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران ،امریکا مذاکرات کل متوقع ،ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی گرین سگنل
اسی طرح امریکا نے 1000 سے زائد پریسیژن اسٹرائیک اور اے ٹی اے سی ایم ایس زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے جس سے ان کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔اندازوں کے مطابق جنگ کے پہلے 2 دنوں میں ہی امریکی فوج نے تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے۔
مجموعی طور پر اب تک ایران جنگ کی لاگت 28 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تقریباً ایک ارب ڈالر یومیہ بنتی ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 38 دن کی جنگ کے دوران 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاہم حکام کے مطابق اس تعداد سے حملوں میں استعمال ہونے والے بموں اور میزائلوں کی اصل مقدار ظاہر نہیں ہوتی ۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ نے امریکی فوج کے عالمی سطح پر موجود اسلحہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے جس کے باعث پینٹاگون کو ایشیا اور یورپ سے ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے۔حکام کے مطابق اس صورتحال نے خاص طور پر چین اور روس جیسے ممکنہ حریفوں کے مقابلے میں امریکا کی عسکری تیاریوں کو متاثر کیا ہے۔












