اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) چین اور پاکستان کے درمیان موسمیاتی پیش گوئی، مصنوعی ذہانت اور قدرتی آفات سے بروقت خبردار کرنے کے نظام میں تعاون کا نیا ماڈل سامنے آگیا۔چینی میڈیا کے مطابق پاکستان محکمہ موسمیات کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے ماہرِ موسمیات شہزاد علی شاہ بیجنگ میں چین کے موسمیاتی انتظامیہ کے بین الاقوامی تعاون و تربیتی مرکز میں ایک سالہ تربیتی پروگرام میں شریک ہیں۔
شہزاد علی شاہ مارچ میں چین پہنچے تھے اور جنوری 2027 تک تربیت اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ ان کی خصوصی توجہ موسمیاتی پیش گوئی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ہے۔رپورٹ کے مطابق شہزاد علی شاہ چین کے جدید موسمیاتی نظام اور MAZU نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی ابتدائی وارننگ پلیٹ فارم کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں۔ MAZU مختلف خطرات کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ نگرانی، عددی موسمیاتی ماڈلز، زمینی مشاہدات اور مصنوعی ذہانت کو ایک مربوط نظام میں شامل کرتا ہے۔
پاکستان میں اس نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جس میں پاکستان کا 5 کلومیٹر ریزولوشن والا WRF موسمیاتی ماڈل، زمینی مشاہدات اور گلیشیئر جھیلوں سے آنے والے سیلاب کی وارننگز شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2026 کے مون سون کے دوران مقامی سطح پر بہتر بنائے گئے MAZU نظام نے بارش کے تجزیے اور اچانک آنے والے سیلاب کے خطرات کا جائزہ لینے میں مدد فراہم کی، جس سے قومی اور صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات میں معاونت ملی۔چینی میڈیا کے مطابق اس تعاون کی خاص بات صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی نہیں بلکہ مشترکہ طور پر صلاحیتیں پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا خلائی مشنز سے رابطوں کے لیے نیا دیوہیکل ریڈیو اینٹینا نصب
ابتدائی مرحلے میں چینی سرورز پر موجود کلاؤڈ بیسڈ نظام کو پاکستان میں استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک میں تاخیر کا مسئلہ درپیش آیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے ماہرین نے مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کیا۔پاکستانی ماہرین اور چینی انجینئرز نے آن پریمس ڈیپلائمنٹ ماڈیول تیار کیا، اسلام آباد میں مخصوص سرورز قائم کیے گئے اور نظام کو پاکستانی ضروریات کے مطابق مزید بہتر بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان کو محض ایک تیار شدہ اور ناقابلِ تبدیلی سافٹ ویئر فراہم نہیں کیا، بلکہ پاکستانی ماہرین کو نظام میں ترمیم، بہتری اور اپ گریڈیشن کی صلاحیت بھی فراہم کی۔
ماہرین کے مطابق چین پاکستان موسمیاتی تعاون اس بات کی مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف جدید ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ، قدرتی آفات سے بروقت خبردار کرنے اور ترقی پذیر ممالک کی مقامی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔












