واشنگٹن (پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جرمن توانائی کمپنی آر ڈبلیو ای کے امریکا میں سمندری ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ختم کرنے کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کا معاہدہ کرلیا۔
جرمن کمپنی آر ڈبلیو ای کے مطابق معاہدے کے تحت وہ کیلیفورنیا، لوزیانا کے ساحلی علاقوں اور نیویارک بائٹ میں اپنے سمندری ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیز حقوق سے دستبردار ہوجائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مستقبل قریب میں امریکا میں ان منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی، اس لیے منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آر ڈبلیو ای کے مطابق کمپنی حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ روایتی توانائی کے منصوبوں میں دوبارہ سرمایہ کاری کرے گی، جس میں لوزیانا میں مائع قدرتی گیس برآمد کرنے والے منصوبے کے لیے تقریباً 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ای سم کی قیمت اور منتقلی کے چارجز میں تبدیلی
کمپنی نے آئندہ چھ برسوں کے دوران امریکا میں مجموعی طور پر تقریباً 19 ارب 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے، جس کا مقصد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام ایسے توانائی نظام کے مستحق ہیں جو مہنگی سرکاری مراعات پر انحصار کرنے کے بجائے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے ناقد رہے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی سمندری ہوا سے بجلی کے منصوبوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں سال سمندری ہوا سے بجلی کے منصوبے روکنے کے لیے یہ تازہ ترین معاہدہ ہے۔ مارچ 2026 میں امریکی انتظامیہ نے فرانسیسی کمپنی ٹوٹل انرجیز کے ساتھ بھی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت امریکا میں اس کے سمندری ہوا سے بجلی کے منصوبے ختم کیے گئے اور کمپنی نے اپنی سرمایہ کاری مائع قدرتی گیس اور خلیج میکسیکو میں روایتی تیل کے منصوبوں کی جانب منتقل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔












