واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر عائد پابندیوں میں توسیع کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پرانے معاہدے میں توسیع کے بجائے ایک نیا، بہتر اور جدید جوہری معاہدہ چاہتے ہیں، جس پر دونوں ممالک کے ماہرین بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ ٹرمپ نے سابقہ معاہدے کو ’’غلط انداز میں طے کیا گیا‘‘ قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ٹرمپ نے کہا:“NEW START معاہدے میں توسیع کرنے کے بجائے — جو امریکا کے لیے بری طرح طے کیا گیا اور جس کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں — ہمیں اپنے جوہری ماہرین کو ایک نیا، بہتر اور جدید معاہدہ تیار کرنے پر کام کرنا چاہیے جو طویل مدت تک مؤثر رہے۔”
صدر ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ چین کو بھی اس نئے معاہدے میں شامل کرنا چاہتے ہیں، تاہم بیجنگ نے اس حوالے سے اب تک کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکا اور روس کے وسیع جوہری ذخائر پر عائد پابندیاں کم ہو گئی ہیں، جس سے ایک نئی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اگر واشنگٹن بھی رضامند ہو تو روس ایک سال مزید اس معاہدے پر عمل کرنے کو تیار ہے، مگر امریکا نے اس پیشکش کو نظرانداز کر دیا۔
روس نے معاہدے کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کیا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس جوہری استحکام کے معاملے میں ’’ذمہ دار اور محتاط رویہ‘‘ اپنائے رکھے گا، تاہم فیصلے قومی مفادات کے تحت کیے جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے وفود نے ابو ظبی میں یوکرین جنگ پر ہونے والی بات چیت کے دوران نیو اسٹارٹ معاہدے میں چھ ماہ کی غیر رسمی توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
تاہم یہ صرف ایک ’’غیر رسمی اتفاق‘‘ ہو سکتا ہے کیونکہ معاہدہ مزید توسیع کی اجازت نہیں دیتا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان جیسے جوہری طاقتوں کے درمیان حالیہ کشیدگی نے بھی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے والے عالمی معاہدے اور روایات کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پہلا START معاہدہ 1991 میں امریکا اور سابق سوویت یونین کے درمیان طے پایا تھا، جبکہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں صدر باراک اوباما اور روسی صدر دمتری میدویدیف نے دستخط کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو 1,550 جوہری وارہیڈز اور 700 میزائل و بمبار طیاروں تک محدود کیا گیا تھا۔












