
از: سہیل شہریار
صدر ٹرمپ کا امن کا نوبل انعام تو حاصل نہیں کر پائے مگر مشرق وسطیٰ میں اپنے میزبانوں کی جانب سے بھرپور پزیرائی اور شاباش ضرور وصول کریں گے۔جبکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور علاقے میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا سہرا انہی کے سر سجایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ٹرمپ اتوار کی رات مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوں گے۔ امریکی صدر پہلے اسرائیل پہنچیں گے۔ جہاں وہ غزہ معاہدے پر دستخط کی سرکاری تقریب کے لیے مصر جانے سے پہلے پیر کو خطاب کریں گے۔اور بعد ازاں شرم الشیخ میں امن معاہدے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=JUARiwqQxes&t=8s
اسرائیل اور حماس پہلے ہی مذاکرات میں ٹرمپ کے کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔مگردنیا بھر سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہےکہ امریکی صدر کو اسرائیلی وزیراعظم پر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد امن معاہدہ توڑنے کے لئے بہانے تلاش نہ کرنے کے لئے دباؤ برقرار رکھنا ہوگا۔بین الاقوامی میڈیا میں تجزیہ کاروں نے اتفاق کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کی بہت قریب سے نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہیں نیتن یاہو کو یہ پیغام دینا جاری رکھنا چاہیے کہ امن معاہدے کو توڑنے کے بارے میں اب سوچنا بھی نہیں ہے۔کیونکہ ٹرمپ ہی اس معاہدے کا سب سے زیادہ کریڈٹ لے رہے ہیں۔
ٹرمپ مخالف تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ نہیں بلکہ دیگر عوامل نے جنگ بندی کو آگے بڑھایا ہے۔ دو سال سے زیادہ کے وحشیانہ اسرائیلی حملے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔ ہاں اقوام متحدہ کے اداروں اور تفتیش کاروں نےاس سارے عمل کو ایک نسل کشی ضرور قرار دیا ہے۔
https://www.youtube.com/shorts/CB0VYqnx8jg
اسی طرح غزہ میں 80 فیصد سے زائد عمارتوں کو تباہ کرنے کے بعد قیدیوں کو آزاد کرانے میں ناکام رہنے کے بعد اس معاہدے سے اسرائیل کو علاقے میں اپنی مہم سے کم ہوتی ہوئی ساکھ بچا کر واپسی مل رہی ہے۔پھراسرائیل کو بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی اور اسجنگ کو جاری رکھنے کے لیے اخراجات میں مسلسل اضافہ بھی اہم ہے۔جبکہ اسرائیل کےاندرونی سیاسی عوامل بھی ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی راہ کو ہموارکیا ہے۔ ورنہ ٹرمپ پلان سے ملتی جلتی تجاویز پچھلے دو سالوں سے میز پر ہیں لیکن نیتن یاہو جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے رہے ہیں۔تاہم تازہ ترین جنگ بندی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر کے ممالک بشمول اسرائیل کے کچھ مغربی اتحادی غزہ ناکہ بندی اور خطے بھر میں جنگ کی مذمت کر رہے ہیں۔












