غزہ:(پاک ترک نیوز) اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں کم از کم 11 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اپنی قائم کردہ تنظیم بورڈ آف پیس کے تحت 5 ارب ڈالر کے وعدوں کا اعلان کر دیا ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد شہید ہوئے۔ جنوبی شہر خان یونس میں ہونے والے حملوں میں مزید پانچ فلسطینی جان سے گئے۔اُدھر فلسطینی اسلامی جہاد کے کمانڈر سامی الدہدوح کو تل الہوا میں ایک کارروائی کے دوران شہید کر دیا گیا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ان حملوں کو “نئی قتلِ عام کی کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کو سبوتاژ کر کے خطے میں خونریز صورتحال مسلط کرنا چاہتا ہے۔
غزہ حکام کے مطابق 10 اکتوبر 2025 ء سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک 601 فلسطینی شہید اور 1607 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 1620 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل حماس پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتا ہے اور چار فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتا ہے۔
اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے مختلف ممالک سے ایک ایک ارب ڈالر دینے کا کہا گیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے سب سے پہلے اس میں شمولیت اختیار کی جبکہ کویت کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
ٹرمپ کی یہ باڈی ابتدا میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے تجویز کی گئی تھی لیکن اب اسے عالمی تنازعات کے حل کے بڑے فورم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے بعض حلقے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی تعبیر کر رہے ہیں۔
حماس نے بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنائے، جبکہ ٹرمپ نے حماس سے فوری غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔












