غزہ ( پاک ترک نیوز) غزہ میں طویل جنگ کے بعد ہونیوالی مہنگائی کے اثر روزہ داروں پر بھی پڑ گیا ، افطاری کی قیمت میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
غزہ میں دو برس جاری رہنے والی جنگ کے بعد بابرکت مہینے رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے تاہم اس سے روزہ داروں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ خراب معیشت اور مہنگائی کی شرح میں بے پناہ اضافہ کے باعث افطاری کی قیمت میں دو گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے خوراک اور دیگر سامان کے داخلے پر پابندی لگا رہا ہے جس سے نہ صرف معیشت تباہ حالی کا شکار ہے بلکہ روزہ داروں کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
رمضان کے مقدس مہینے میں بھی فلسطینی بنیادی کی آسمان چھوٹی قیمتوں نے افطار کے مکمل کھانے کو روزانہ کرنے کا خواب بنا دیا ہے جو آبادی کی اکثریت کیلئے بہت دور کی بات ہے۔
اسرائیل کی جانب سے جب غزہ کا محاصرہ کیا گیا تو گزر گاہوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا جس کے باعث خوراک کی قیمتوں میں 700فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
غزہ کی وزارت اقتصادیات میں پالیسی اور منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر جنرل محمد بربخ کا کہنا ہے کہ 7اکتوبر 2023کو جنگ شروع ہونے سے پہلے سے لیکر اس رمضان کے پہلے دنوں تک قیمتوں میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
وزارت کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق چکن کی قیمتیں 14شیکل سے بڑھ کر 25شیکل فی کلو گرام ہو گئی ہیں جو کہ 80فیصد اضافہ ہے۔
اسی طرح منجمد مچھلیکی قیمتیں 8 شیکل سے بڑھ کر 23 شیکل فی کلو تک پہنچ گئیں، جو کہ 190 فیصد اضافہ ہے۔منجمد سرخ گوشت کی قیمتیں 23 شیکل سے بڑھ کر 40شیکل فی کلو ہوگئی،جس میں 75فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب 30 انڈوں کی ایک ٹرے کی قیمت اب 35 شیکلز ہے جو کہ13 شیکلز کے مقابلے میں 170 فیصد اضافہ ہے۔












