غزہ : (پاک تر ک نیوز)غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں سے متعلق ایک ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں امریکی ساختہ انتہائی مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
قطری میڈیا کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں ایسے تھرمل اور تھرموبارک بم استعمال کیے گئے جن کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہزاروں فلسطینیوں کے جسمانی آثار تک باقی نہیں رہے۔
تحقیقات کے مطابق، غزہ میں کم از کم 2 ہزار 800 سے زائد افراد ایسے ہیں جو حملوں کے بعد مکمل طور پر لاپتہ ہو گئے۔
جائے وقوعہ سے صرف خون کے نشانات، جلے ہوئے ٹکڑے یا کچھ بھی نہیں ملا، جس کی وجہ سے انہیں شہداء کی فہرست میں بھی شامل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
الجزیرہ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان بموں کا درجہ حرارت 3 ہزار 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جو نہ صرف عمارتوں کو لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیتا ہے بلکہ انسانوں کو بھی مکمل طور پر نیست و نابود کر دیتا ہے۔
ایک دل دہلا دینے والا واقعہ 10 اگست 2024 کو پیش آیا، جب ایک فلسطینی خاتون یاسمین مہانی اپنے لاپتہ بیٹے سعد کی تلاش میں ایک مسجد پہنچیں۔
ان کے مطابق مسجد کے اندر اور اطراف میں صرف خون اور انسانی گوشت کے ٹکڑے موجود تھے، لیکن سعد کا کوئی وجود نہ ملا، نہ دفنانے کے لیے کچھ بچا۔
غزہ کی سول ڈیفنس ٹیموں نے ہر حملے کے بعد ملبے کی چھان بین کی، متاثرہ گھروں میں موجود افراد کی تعداد اور ملنے والی باقیات کا موازنہ کیا، مگر کئی مقامات پر کسی بھی فرد کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔
غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ گھروں میں کتنے لوگ تھے، مگر حملے کے بعد ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ استعمال ہونے والے ہتھیار معمول کے نہیں تھے۔
ماہرین، انسانی حقوق کے ادارے اور عینی شاہدین ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دے رہے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل کے ان اقدامات کا فوری نوٹس لیا جائے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔












