غزہ: (پاک ترک نیوز)غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے انسانی نقصان کے بارے میں آزاد اور مستند تحقیقات نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ طبی جریدے The Lancet Global Health میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق کے مطابق اکتوبر 2023 ءسے جنوری 2025 ءکے درمیان 75,200 سے زائد افراد پرتشدد واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تعداد غزہ کی جنگ سے پہلے کی تقریباً 22 لاکھ آبادی کا 3.4 فیصد بنتی ہے۔
یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارتِ صحت کے سرکاری ریکارڈ سے تقریباً 34 فیصد زیادہ ہیں، جس میں اسی مدت کے دوران 49,090 “پرتشدد اموات” رپورٹ کی گئی تھیں۔
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار مبالغہ آمیز نہیں بلکہ دراصل کم از کم حد (“فلور”) کی نمائندگی کرتے ہیں، کیونکہ تباہ حال انفراسٹرکچر کے باعث ہر موت کا اندراج ممکن نہیں رہا۔
اس سروے میں 2,000 گھروں کے 9,729 افراد کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف، رائل ہولوے یونیورسٹی لندن کے ماہر معاشیات مائیکل سپاگٹ کے مطابق وزارتِ صحت کی رپورٹنگ شدید حالات کے باوجود قابلِ اعتماد ہے، مگر نظام کی تباہی کی وجہ سے مکمل تصویر سامنے نہیں آ پاتی۔
تحقیق میں 16,300 غیر پرتشدد اموات کا بھی اندازہ لگایا گیا، جن میں سے 8,540 اموات خراب رہائشی حالات، طبی نظام کی تباہی اور محاصرے کے نتیجے میں ہوئیں۔
مزید برآں اپریل 2025 ءتک 116,020 زخمیوں کا تخمینہ لگایا گیا، جن میں سے 29 سے 46 ہزار افراد کو پیچیدہ تعمیرِ نو سرجری کی ضرورت ہے۔
جنگ سے قبل غزہ میں 36 میں سے صرف 12 ہسپتال فعال رہ گئے، جبکہ پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجن صرف آٹھ تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر طبی سہولیات مکمل طور پر بحال بھی ہو جائیں تو موجودہ سرجری کے بوجھ کو ختم کرنے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی اور بین الاقوامی امداد نہ ملی تو ہزاروں افراد زندگی بھر معذوری کا شکار رہیں گے۔ یہ تحقیقات نہ صرف انسانی المیے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے فوری اقدام کا مطالبہ بھی کرتی ہیں۔












