بدھ , 28 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

غزہ امن بورڈ کا افتتاحی اجلاس اور درپیش چیلنجز

9 مہینے پہلے
A A
The inaugural meeting of the Gaza Peace Board and the challenges faced
Share on Facebookwhatsapp

از : سہیل شہریار

ملبے اور بٹی ہوئی دھات کے پہاڑ۔ ہزاروں ٹن نہ پھٹ پانے والے اسرائیلی بم اور گولہ بارود۔ پانی، سیوریج اور بجلی،صحت ، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کے تباہ شدہ ڈھانچے ۔ اور سب سے بڑھ کر غزہ کے باسیوں کا غزہ کی تعمیر نو کے مجوزہ امریکی منصوبے پر عدم اعتماد۔ یہ سب مسائل وہ نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کو حیران کن اور گھمبیر چیلنجز کا سامناہے۔

اب غزہ امن بورڈ کے 19فروری کو واشنگٹن میں ہونے والےافتتاحی اجلاس میں غزہ کی جنگ کے بعد کی تعمیر نو کے انہی مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں شرکت کے لئےسربراہان مملکت و حکومت اور بین الاقوامی شخصیات کو دعوت نامے ارسال کئے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں آٹھ بڑے اسلامی ممالک کی شرکت متوقع ہے۔جن میں سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ توقع ہے کہ مسلم ممالک حسب سابق اجلاس میں غزہ سے متعلق مسائل پر متفقہ موقف اپنائیں گے۔اسلامی ملک جن امور پر زور دیں گے ان میں اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنا ،پورے غزہ سے اسرائیلی انخلا اور پائیدار امن کی ضمانتیں حاصل کرنا شامل ہیں۔ان ضمانتوں کو تعمیر نو کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میںغزہ امن بورڈ کے مینڈیٹ کو حتمی شکل دینے اور طویل مدتی استحکام کے قیام کے طریقہ کار پر بھی توجہ دی جائے گی۔


غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے متوقع مدعوین میں بورڈ کےتمام 22 ممبران سمیت دیگر شامل ہیں۔ پاکستان 22 جنوری کوغزہ امن بورڈ میں شامل ہواتھا جب اس سمیت22ممالک نے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ڈیووس میں بورڈ کے بانی چارٹر پر دستخط کیے تھے ۔ غزہ امن بورڈ کے19 فروری کےاجلاس کو تنظیمی اور مالی نوعیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس میں بورڈ کے ڈھانچے، مینڈیٹ اور سیکرٹریٹ کے امور طے پائیں گے۔ساتھ ہی توقع ہے کہ وہ فنڈ ریزنگ کانفرنس کے طور پر بھی کام کرے گی۔ میٹنگ میں آپریشنل سمت بھی واضح ہونے کی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں فوجیوں کی شراکت پر بھی تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔ تاہم کوئی بھی فیصلہ بورڈ کے فریم ورک کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔
غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ علاقے کے 80فیصدسے زیادہ ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور ایسی تباہی دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کہیں نہیں دیکھی گئی۔اس تباہی کے بعد تعمیر نو کی مجموعی لاگت کے مختلف تخمینے لگائے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے تعمیر نو کے منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم70 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔جبکہ ماہرین کی رائے میں اخراجات 100ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن اجلاس کے تناظر میں عالمی اداوں اور ماہرین کی رپورٹوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ تعمیر نو کاامریکی روڈ میپ زمینی حقائق کے ساتھ گہرا متصادم ہے۔کیونکہ مشرق وسطیٰ کےجدید شہروں کے برعکس غزہ کی تعمیر نو خالی زمین یا کم آبادی والی بستیوں پر نہیں ہو گی۔اس لئے غزہ کی تعمیر نو کا امریکی منصوبہ نہ صرف غزہ بلکہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان نئی تقسیم پیدکر دے گا۔جبکہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس منصوبے کے مجوزہ خدو خال شیشے کے ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ زونز سمیت جدید ترین پر آشائش سہولتوںکو دیکھتے ہوئے تمام فلسطینیوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نئے غزہ کا امریکی منصوبہ امرا کے لئے رویرا کا منصوبہ لگتا ہے۔ یہ واقعی بے گھرفلسطینی عوام کے لیے نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کا محرک، وژن اور منصوبہ بندی فلسطینیوں کی جانب سے کی جانی چاہیے۔


چنانچہ اس حوالے سے امریکی صدر کی جانب سےغزہ کا انتظام چلانے کے لیے منتخب کی گئی ٹیم کے چیف کمشنر سابق فلسطینی حکومتی اہلکار علی شعت نے کہا ہے کہ وہ جنگی ملبے کو بحیرہ روم میں دھکیل کر نئے جزیرے اور نئی زمین بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جو یقیناً ممکن ہے کیونکہ یونیسف کی رپورٹکے مطابق غزہ آج 21لاکھ افراد اور 60 ملین ٹن ملبے کا گھر ہے ۔غزہ میں ملبہ اتنا زیادہ ہے کہ تقریباً 3,000 کنٹینر بحری جہاز بھر سکتے ہیں۔اور اگر مربو ط منصوبہ بندی کے ساتھ دن رات کام کیا جائے تو اسے صاف ہونے میں سات سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔البتہ ملبے کے نیچے کم از کم 10ہزار فلسطینیوں کی باقیات اور ہزاروں ٹن اسرائیلی بارود کی موجودگی اسے پیچیدہ بناتی ہیں ۔
مزید براں غزہ کی تعمیر نو کو درپیش سب سے اہم چیلنج اسرائیل کی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاںجن میں اب تک 500سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ۔اور اپنی قومی سلامتی کے نام پر بنائی گئی یلولائن ہیں جس کے ذریعے غزہ کی پٹی کے نصف کے قریب حصے پر قبضہ جما لیا گیا۔

موضوعات : donaldtrumpgazaisrealturmp
ShareSend

متعلقہ خبریں

Setback for Netanyahu in Israeli elections; opposition claims government has come to an end.
تازہ ترین

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کو دھچکا، اپوزیشن کا حکومت ختم ہونے کا دعویٰ

28 اکتوبر , 2026
Trump has termed negotiations with Iran a waste of time.
تازہ ترین

ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا

28 اکتوبر , 2026
Vote counting underway in Israeli elections, Netanyahu's government in danger
تازہ ترین

اسرائیلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ،نیتن یاہوکی حکومت خطرے میں

28 اکتوبر , 2026
Polling underway for 120 parliamentary seats in Israel; election poses a major challenge for Netanyahu.
تازہ ترین

اسرائیل میں پارلیمنٹ کی120نشستوں پر پولنگ ،الیکشن نیتن یاہوکیلئے بڑا چیلنج

27 اکتوبر , 2026
Iran has developed missiles capable of reaching Europe and American cities, claims Donald Trump.
تازہ ترین

ایران نے یورپ اور امریکی شہروں تک پہنچنے والے میزائل تیار کر لیے،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

27 اکتوبر , 2026
Trump threatens Iran with another military operation
اہم ترین

ٹرمپ کی ایران کو ایک اور فوجی آپریشن کی دھمکی

24 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
Babar Azam's big announcement before the Pakistan-India match

پاک بھارت میچ سے قبل بابراعظم کا بڑا اعلان

یہ بھی پڑھیں

ون چائنا پالیسی کی حمایت،پاکستان نے تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی

ون چائنا پالیسی کی حمایت،پاکستان نے تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی

28 اکتوبر , 2026
سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر 21 سال بعد بیٹے کی پیدائش

سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر 21 سال بعد بیٹے کی پیدائش

28 اکتوبر , 2026
ریڈیو پاکستان حملہ ،کیس ،سہیل آفریدی سمیت 5ملزموں کے وارنٹ گرفتاری

ریڈیو پاکستان حملہ ،کیس ،سہیل آفریدی سمیت 5ملزموں کے وارنٹ گرفتاری

28 اکتوبر , 2026
Ban on flying drones in open air across Punjab for 30 days

پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر 30 روز کے لیے پابندی عائد

28 اکتوبر , 2026
Islamabad’s model jail will become operational within three days; initially, 1,500 prisoners will be transferred.

اسلام آباد کی ماڈل جیل تین روز میں فعال ہو جائے گی، ابتدائی طور پر 1500 قیدی منتقل ہوں گے

28 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔