پیر , 7 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

غزہ امن بورڈ کا افتتاحی اجلاس اور درپیش چیلنجز

7 مہینے پہلے
A A
The inaugural meeting of the Gaza Peace Board and the challenges faced
Share on Facebookwhatsapp

از : سہیل شہریار

ملبے اور بٹی ہوئی دھات کے پہاڑ۔ ہزاروں ٹن نہ پھٹ پانے والے اسرائیلی بم اور گولہ بارود۔ پانی، سیوریج اور بجلی،صحت ، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں کے تباہ شدہ ڈھانچے ۔ اور سب سے بڑھ کر غزہ کے باسیوں کا غزہ کی تعمیر نو کے مجوزہ امریکی منصوبے پر عدم اعتماد۔ یہ سب مسائل وہ نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کو حیران کن اور گھمبیر چیلنجز کا سامناہے۔

اب غزہ امن بورڈ کے 19فروری کو واشنگٹن میں ہونے والےافتتاحی اجلاس میں غزہ کی جنگ کے بعد کی تعمیر نو کے انہی مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں شرکت کے لئےسربراہان مملکت و حکومت اور بین الاقوامی شخصیات کو دعوت نامے ارسال کئے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں آٹھ بڑے اسلامی ممالک کی شرکت متوقع ہے۔جن میں سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ توقع ہے کہ مسلم ممالک حسب سابق اجلاس میں غزہ سے متعلق مسائل پر متفقہ موقف اپنائیں گے۔اسلامی ملک جن امور پر زور دیں گے ان میں اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنا ،پورے غزہ سے اسرائیلی انخلا اور پائیدار امن کی ضمانتیں حاصل کرنا شامل ہیں۔ان ضمانتوں کو تعمیر نو کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میںغزہ امن بورڈ کے مینڈیٹ کو حتمی شکل دینے اور طویل مدتی استحکام کے قیام کے طریقہ کار پر بھی توجہ دی جائے گی۔


غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے متوقع مدعوین میں بورڈ کےتمام 22 ممبران سمیت دیگر شامل ہیں۔ پاکستان 22 جنوری کوغزہ امن بورڈ میں شامل ہواتھا جب اس سمیت22ممالک نے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ڈیووس میں بورڈ کے بانی چارٹر پر دستخط کیے تھے ۔ غزہ امن بورڈ کے19 فروری کےاجلاس کو تنظیمی اور مالی نوعیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس میں بورڈ کے ڈھانچے، مینڈیٹ اور سیکرٹریٹ کے امور طے پائیں گے۔ساتھ ہی توقع ہے کہ وہ فنڈ ریزنگ کانفرنس کے طور پر بھی کام کرے گی۔ میٹنگ میں آپریشنل سمت بھی واضح ہونے کی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں فوجیوں کی شراکت پر بھی تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔ تاہم کوئی بھی فیصلہ بورڈ کے فریم ورک کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔
غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ علاقے کے 80فیصدسے زیادہ ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور ایسی تباہی دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کہیں نہیں دیکھی گئی۔اس تباہی کے بعد تعمیر نو کی مجموعی لاگت کے مختلف تخمینے لگائے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے تعمیر نو کے منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم70 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔جبکہ ماہرین کی رائے میں اخراجات 100ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن اجلاس کے تناظر میں عالمی اداوں اور ماہرین کی رپورٹوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ تعمیر نو کاامریکی روڈ میپ زمینی حقائق کے ساتھ گہرا متصادم ہے۔کیونکہ مشرق وسطیٰ کےجدید شہروں کے برعکس غزہ کی تعمیر نو خالی زمین یا کم آبادی والی بستیوں پر نہیں ہو گی۔اس لئے غزہ کی تعمیر نو کا امریکی منصوبہ نہ صرف غزہ بلکہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان نئی تقسیم پیدکر دے گا۔جبکہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس منصوبے کے مجوزہ خدو خال شیشے کے ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ زونز سمیت جدید ترین پر آشائش سہولتوںکو دیکھتے ہوئے تمام فلسطینیوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نئے غزہ کا امریکی منصوبہ امرا کے لئے رویرا کا منصوبہ لگتا ہے۔ یہ واقعی بے گھرفلسطینی عوام کے لیے نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کا محرک، وژن اور منصوبہ بندی فلسطینیوں کی جانب سے کی جانی چاہیے۔


چنانچہ اس حوالے سے امریکی صدر کی جانب سےغزہ کا انتظام چلانے کے لیے منتخب کی گئی ٹیم کے چیف کمشنر سابق فلسطینی حکومتی اہلکار علی شعت نے کہا ہے کہ وہ جنگی ملبے کو بحیرہ روم میں دھکیل کر نئے جزیرے اور نئی زمین بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جو یقیناً ممکن ہے کیونکہ یونیسف کی رپورٹکے مطابق غزہ آج 21لاکھ افراد اور 60 ملین ٹن ملبے کا گھر ہے ۔غزہ میں ملبہ اتنا زیادہ ہے کہ تقریباً 3,000 کنٹینر بحری جہاز بھر سکتے ہیں۔اور اگر مربو ط منصوبہ بندی کے ساتھ دن رات کام کیا جائے تو اسے صاف ہونے میں سات سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔البتہ ملبے کے نیچے کم از کم 10ہزار فلسطینیوں کی باقیات اور ہزاروں ٹن اسرائیلی بارود کی موجودگی اسے پیچیدہ بناتی ہیں ۔
مزید براں غزہ کی تعمیر نو کو درپیش سب سے اہم چیلنج اسرائیل کی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاںجن میں اب تک 500سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ۔اور اپنی قومی سلامتی کے نام پر بنائی گئی یلولائن ہیں جس کے ذریعے غزہ کی پٹی کے نصف کے قریب حصے پر قبضہ جما لیا گیا۔

موضوعات : donaldtrumpgazaisrealturmp
ShareSend

متعلقہ خبریں

Forced displacement of Palestinians from Gaza unacceptable; eight Islamic nations, including Pakistan, deliver a categorical response to Israel.
اہم ترین 2

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نامنظور، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو دوٹوک جواب

6 ستمبر , 2026
Preservation of local seeds in Gaza, a ray of hope for farmers during war
تازہ ترین

غزہ میں مقامی بیجوں کا تحفظ، جنگ کے دوران کسانوں کے لیے امید کی کرن

5 ستمبر , 2026
Made the right decision to attack Iran; took action to prevent nuclear weapons Trump
تازہ ترین

ایران پر حملے کا درست فیصلہ کیا، جوہری ہتھیار سے روکنے کیلئے کارروائی کی: ٹرمپ

4 ستمبر , 2026
US ready to attack Iran again at any time Trump
تازہ ترین

امریکا ایران پر دوبارہ حملے کے لیے کسی بھی وقت تیار ہے، ٹرمپ

3 ستمبر , 2026
Trump's threat to give a harsh response to Iran
تازہ ترین

ٹرمپ کی ایران کو سخت جواب دینے کی دھمکی

1 ستمبر , 2026
Uganda to send 1,200 troops for the international stabilization force in Gaza.
تازہ ترین

غزہ میں عالمی استحکامی فورس، یوگنڈا ایک ہزار 200 فوجی بھیجے گا

29 اگست , 2026
اگلی خبر
Babar Azam's big announcement before the Pakistan-India match

پاک بھارت میچ سے قبل بابراعظم کا بڑا اعلان

یہ بھی پڑھیں

Details released regarding the extraordinary performance of Russia's Su-57 fighter jet.

روس کے ایس یو 57جنگی طیارے کی غیر معمولی کارکردگی کی تفصیلات جاری

6 ستمبر , 2026
Forced displacement of Palestinians from Gaza unacceptable; eight Islamic nations, including Pakistan, deliver a categorical response to Israel.

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نامنظور، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو دوٹوک جواب

6 ستمبر , 2026
Pakistani scientist Dr. Hina Siddiqui elected Fellow of the Royal Society of Chemistry.

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر حنا صدیقی رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی فیلو منتخب

6 ستمبر , 2026
Poor internet connectivity in Gilgit-Baltistan hampers tourism and disaster response efforts.

گلگت بلتستان میں ناقص انٹرنیٹ رابطہ، سیاحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مشکلات

6 ستمبر , 2026
Serhat Kılıç, the renowned actor from Kuruluş Osman, was found dead at home.

کورولوش عثمان کے معروف اداکار سرحات کیلیچ گھر میں مردہ پائے گئے

6 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔