تل ابیب (پاک ترک نیوز) کیا آپ یقین کریں گے کہ ایک ایسا ملک، جو ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی میں دنیا میں آگے سمجھا جاتا ہے، اب قبرستانوں کی زمین ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے؟ جی ہاں، اسرائیل میں ایک ایسا خاموش بحران جنم لے رہا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک جا سکتے ہیں۔ایک نئی تحقیق نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں اسرائیل میں سالانہ اموات کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہر شہری کو ریاست کے خرچ پر اپنے شہر کے قریب مستقل قبر فراہم کی جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے: جب مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سالانہ سے تجاوز کر جائے گی تو زمین کہاں سے آئے گی؟رپورٹ کے مطابق 2040 کی دہائی تک اموات کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ اور 2070 تک دو لاکھ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ تل ابیب اور وسطی علاقوں کے بڑے قبرستان 2035 تک مکمل بھر سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پالیسی نہ بدلی گئی تو ملک کے وسیع علاقے “مردوں کے شہر” میں بدل سکتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تدہین یعنی لاش کو جلانے کا رجحان عام ہے، مگر اسرائیل میں مذہبی اور ثقافتی وجوہات کی بنا پر یہ قابل قبول نہیں۔ اب حکومت کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو پرانی روایات برقرار رکھے اور زمین کی شدید قلت کا سامنا کرے، یا پھر کثیر المنزلہ تدفین اور قدیم “ہڈی محفوظ کرنے” کے طریقے اپنائے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صرف قبرستانوں کا مسئلہ نہیں، یہ معیشت، شہری منصوبہ بندی اور سماجی ڈھانچے کا بحران بن سکتا ہے۔ اگر فوری فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں زندہ لوگوں کو زمین کم اور قبروں کو زیادہ جگہ ملے گی۔کیا اسرائیل اس خاموش طوفان کا سامنا کر پائے گا؟ یا واقعی ایک دن ایسا آئے گا جب زمین زندوں کے لیے کم پڑ جائے گی؟












