
از :سہیل شہریار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے چین کے انتہائی اہم دورےکے لئے امریکہ سے چین پہنچ چکے ہیں ۔اور ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی انکے ہمراہ ہے ۔جس میں کابینہ کے ارکان کے علاوہ کئی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ کاتین روزہ دورہ چین 9برس بعد کسی امریکی صدر کا بیجنگ کا دورہ ہے۔ اس سے پہلے بھی ٹرمپ ہی 2017میں اپنے پہلے دور اقتدار میں چین کی یاترا کر چکے ہیں۔ اس دورے کے دوران جمعرات اور جمعہ کے روز دو طرفہ مذاکرات، ایک سرکاری عشائیہ اور امریکی صدر کا ٹیمپل آف ہیون سمیت دیگر اہم تاریخی مقامات کی سیرشیڈول میں شامل ہیں۔
امریکی صدر کے دورے کی تیاریوں کے سلسلے میںبیجنگ کے تاریخی تیانانمن سکوائر کے اطراف کئی روز سے کام جاری تھا جبکہ پورے علاقے کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔چینی سوشل میڈیا کے مطابق تیانمن سکوائر پر امریکی صدر کے لئے ایک شاندار استقبالیہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ تاہم چینی انتظامیہ کی جانب سے اس ممکنہ تقریب کی تیاریاں گذشتہ کئی دنوں سے خاموشی سے جاری تھیں ۔جو اب مکمل ہو چکی ہیں۔
دوطرفہ بیانات اور اعلیٰ سطحی رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ دونوں ہی اس دورے کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔ آج کی دنیا کی ہر حوالے سے دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات دنیا کے مستقبل کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔تاہم جمعرات اور جمعہ کے روز ہونے والے دو روزہ مزاکرات کا محور ایران۔امریکہ جنگ میں چین کا کردار، تائیوان کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ، عالمی تجارت کا مستقبل اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقت ہوں گے۔جبکہ مزاکرات کے دوران بیجنگ کو نایاب ارضیاتی معدنیا ت کے حوالے سے اپنی اہمیت استعمال کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے جو ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ٹرمپ واضح طور پر دلچسپی رکھتے ہیں۔
معاشی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ اور ایران میں تنازع، صدر شی جن پنگ کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے، مگر نظریاتی اور سیاسی اعتبار سے یہ ایک لحاظ سے اُن کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ دونوںملک ایک تزویراتی دشمنی اور گہرے معاشی انحصار سے تشکیل پانے والے تعلقات میں بندھے ہیں۔امریکہ اب بھی چین کیپیداواری صلاحیت اور کم لاگت کی پیداوار پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ جبکہ چین امریکی صارفین تک رسائی، کیپٹل مارکیٹس اور ڈالر پر مرکوز عالمی معیشت کے وسیع تر استحکام پر انحصار کرتا ہے۔یہی امریکہ اور چین کی دشمنی کا تضاد ہے کہ ہر فریق زیادہ خود مختاری چاہتا ہے۔ پھر بھی دونوں باہمی انحصار کے ڈھانچے میں بندھے ہوئے ہیں جسے کوئی بھی اپنے آپ کو نقصان پہنچائے بغیر آسانی سے ختم نہیں کر سکتا۔
صدرٹرمپ کے بیجنگ کے موجودہ دورے سے بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں جانب سے کھینچا تانی کے ماحول میں یہی کوشش کی جائے گی کہ معاملہ ایرن جنگ کا ہو یا تائیوان کا دوسرے فریق سے زیادہ سے زیادہ تعاون اور رعایتیں حاصل کی جائیں ۔












