بیجنگ ( پاک ترک نیوز)چین کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی BYD نے صنعتی پیداوار میں روبوٹس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے چینی روبوٹکس اسٹارٹ اپ PaXini Tech کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ کرلیا۔دونوں کمپنیوں نے 25 اگست کو شینژن میں BYD کے عالمی ہیڈکوارٹرز میں معاہدے پر دستخط کیے۔ شراکت داری کے تحت روبوٹکس، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور صنعتی مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت BYD اپنی گاڑیوں اور پرزہ جات کی پیچیدہ مینوفیکچرنگ لائنز، فیکٹری ماحول اور سپلائی چین کے وسائل PaXini کو فراہم کرے گی۔ ان سہولیات میں روبوٹس کو حقیقی صنعتی ماحول میں آزمایا جائے گا اور ان کے آپریشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ایمبوڈیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوگا۔BYD کے مطابق یہ ڈیٹا روبوٹس کی مختلف حالات میں فیصلہ سازی اور کام کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے گا، جس سے مستقبل میں فیکٹریوں میں روبوٹس کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب PaXini اپنے جدید ٹیکٹائل سینسرز، ملٹی ڈائمنشنل پرسیپشن اور ملٹی موڈل ایمبوڈیڈ ڈیٹا کلیکشن کی ٹیکنالوجی فراہم کرے گی۔ اس سے روبوٹس کو اشیا کو زیادہ درست انداز میں محسوس کرنے اور پیچیدہ کام انجام دینے میں مدد ملے گی۔شینژن میں قائم PaXini Tech کی بنیاد 2021 میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی کے اہم مصنوعات میں ہائی پریسیژن ٹیکٹائل سینسرز، روبوٹک ڈیکسٹرس ہینڈز اور Tora سیریز کے ہیومنائیڈ روبوٹس شامل ہیں۔
PaXini اس سے قبل چینی کار ساز کمپنی Geely Auto کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاہدہ کرچکی ہے، جہاں Tora-One ہیومنائیڈ روبوٹ کو گاڑیوں کی تیاری میں استعمال کیا گیا۔روبوٹ نے گاڑیوں کی وائرنگ ہارنس کی اسمبلی اور چپکنے والے مواد کے استعمال جیسے کام انجام دیے۔ کمپنی کے مطابق Tora-One نے ایک موقع پر مسلسل 8 گھنٹے بغیر کسی خرابی کے کام کیا اور 99.8 فیصد ٹاسک کامیابی کی شرح حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین کی کمپنیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا معاہدہ
BYD نے اپریل 2025 میں PaXini میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی تھی۔ مارچ 2026 میں PaXini نے ایک ارب یوآن سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا، جس کے بعد کمپنی کی مالیت 10 ارب یوآن سے تجاوز کرگئی۔رپورٹس کے مطابق PaXini ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او لانے پر بھی غور کررہی ہے۔










