انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے چاند پر اپنے پہلے خلائی مشن کے لیے تیار کیے جانے والے خلائی جہاز کی تیاری، جوڑنے اور تمام بنیادی نظاموں کی تنصیب مکمل کرلی ہے۔ترکیہ کے وزیر صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح کاجیر کے مطابق خلائی جہاز کو اب ماحولیاتی اور نظامی آزمائشوں کے لیے ترک فضائی و خلائی صنعت کے خلائی نظاموں کی تنصیب اور آزمائشی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔ترکیہ کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنی مقامی انجینئرنگ صلاحیتوں کے ذریعے چاند پر مشن بھیجنے والا دنیا کا نواں اور پہلا مسلم ملک بنے۔
تقریباً ساڑھے تین ٹن وزنی خلائی جہاز کو 2027 کے ابتدائی مہینوں میں روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ خلائی جہاز تقریباً دو ماہ کے سفر کے بعد چاند کی سطح سے تقریباً 100 کلومیٹر بلند قطبی دائرہ نما مدار میں پہنچے گا۔مشن کے دوران خلائی جہاز کم از کم تین ماہ تک کام کرے گا، تاہم کارکردگی بہتر ہونے کی صورت میں اس کی مدت 18 ماہ تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ترکیہ کا خلائی جہاز چاند کی سطح پر شمسی ہواؤں کے اثرات، چاند پر پانی بننے کے عوامل، مقناطیسی میدان اور سطحی درجہ حرارت سمیت مختلف سائنسی امور کا جائزہ لے گا۔ اس دوران ملکی سطح پر تیار کردہ آلات کے ذریعے تابکاری کی پیمائش بھی کی جائے گی۔مشن مکمل ہونے کے بعد خلائی جہاز کو قابو میں رکھتے ہوئے رفتار کم کی جائے گی اور اسے چاند کی سطح کی جانب بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی دفاعی کمپنی کا بڑا منصوبہ، ویکٹس خودکار جنگی طیاروں کے نمونے پانچ کر دیے جائیں گے
ترکیہ کے وزیر کے مطابق مشن کا ایک اہم حصہ ملکی سطح پر تیار کردہ دوہرا ایندھن نظام ہوگا، جو چاند کے مدار کو بلند کرنے اور آخری مرحلے میں خلائی جہاز کو مدار سے نکال کر چاند کی سطح کی جانب لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کو مکمل طور پر ملکی وسائل سے تیار کیا گیا ہے اور گہرے خلائی ماحول میں اسے پہلی مرتبہ استعمال کیا جائے گا۔ ترک خلائی جہاز میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ملکی سطح پر تیار کردہ ہے۔ اس کی تیاری میں ترکیہ کے سابق خلائی منصوبوں سے حاصل ہونے والی مہارت کو استعمال کیا گیا، جن میں زمین کا مشاہدہ کرنے والا ایمجے خلائی جہاز اور ترک سیٹ 6 اے شامل ہیں۔
خلائی جہاز کے نظام میں پرواز کے لیے کمپیوٹر، مواصلاتی نظام، بجلی کی فراہمی، حرارتی نظام اور مدار میں نقل و حرکت سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہے۔آئندہ مرحلے میں خلائی جہاز پر خلائی ماحول سے متعلق مختلف آزمائشیں کی جائیں گی۔ خلا کے انتہائی درجہ حرارت کی نقل تیار کرکے حرارتی آزمائش، روانگی کے دوران دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لیے ساختی آزمائش اور مختلف نظاموں کے باہمی محفوظ کام کرنے کی جانچ بھی کی جائے گی۔











