تل ابیب ( پاک ترک نیوز ) اسرائیل نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف مزید پابندیاں عائد کیے جانے کی صورت میں برطانوی حکام کو غزہ جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مرکز سے نکالنے پر غور شروع کردیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے برطانیہ کے مزید اسرائیل مخالف اقدامات کو جوابی کارروائی کا باعث قرار دیا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی حکومتی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر لندن نے مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مزید پابندیاں عائد کیں تو اسرائیل برطانوی اہلکاروں کو جنوبی اسرائیل کے شہر کریات گات میں قائم انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے بے دخل کرسکتا ہے۔
یہ مرکز اکتوبر 2025 میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے منصوبے پر عمل درآمد میں مدد فراہم کرنا ہے۔کریات گات میں قائم اس مرکز میں امریکا اور اسرائیل کا نمایاں کردار ہے، تاہم تقریباً 50 ممالک اور عالمی اداروں کے فوجی اور سفارتی حکام بھی اس کا حصہ ہیں۔برطانیہ کا وفد بھی مرکز میں اہم ترین وفود میں شمار ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات برطانوی فوج کے میجر جنرل بھی وہاں موجود رہے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف مزید معاشی اقدامات پر غور کررہا ہے۔
برطانیہ پہلے ہی ان افراد پر پابندیاں عائد کرچکا ہے جن پر فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جن میں اسرائیلی حکومت کے وزرا بھی شامل ہیں۔اب برطانوی حکام ایسے وسیع تر اقدامات پر کام کررہے ہیں جن کے تحت مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے برطانیہ آنے والی اشیا اور خدمات، اور برطانیہ سے ان بستیوں کو جانے والی اشیا اور خدمات پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے اعلان کیا کہ نیدرلینڈز کے حکام کو مرکز سے نکالا جائے گا۔ اس سے قبل اسپین کے اہلکاروں کو بھی اسرائیل نے مبینہ طور پر میڈرڈ کے اسرائیل مخالف مؤقف کی وجہ سے مرکز سے ہٹا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا میں بحران سنگین، یوئیفا کا صدر فیفا سے اعتماد بحال کرنے کے لیے نئی قیادت کا مطالبہ
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ جو ممالک اسرائیل کے خلاف اقدامات کریں گے، وہ اسرائیلی جوابی کارروائی کے لیے خود کو تیار رکھیں۔برطانوی حکام کو کریات گات مرکز سے نکالے جانے کے امکان سے متعلق سوال پر اسرائیلی عہدیدار نے نیدرلینڈز کے اہلکاروں کی بے دخلی کی مثال دی۔دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اٹلی اور جرمنی کے حکام کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی پر غور کیا جارہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گزشتہ سال فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کیا تھا، جس پر اسرائیل نے شدید ردعمل دیا تھا۔












