اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز ہسپتال کی بہتری کے لیے لائحہ عمل سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں پمز کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کی جانب سے ہسپتال کے کارکردگی جائزے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال میں بہتری لانے اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔
شہباز شریف نے فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ سے معاونت اور تجاویز لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں دی گئی تجاویز کا بھی جائزہ لینے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہسپتال میں ادویات کی فراہمی اور سہولیات بالکل مفت فراہم کرنے کے لیے اقدامات بھی لائحہ عمل کا حصہ بنائے جائیں۔ پمز ہسپتال کی بہتری کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی افرادی قوت تعینات کی جائے، جبکہ طویل مدتی اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل بھی مرتب کیا جائے۔وزیراعظم نے پولی کلینک ہسپتال کا بھی کارکردگی جائزہ لینے اور بے ضابطگیوں کو دور کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولی کلینک کی تنظیم نو کے لیے بھی جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور آج ہوگا
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ دارالحکومت ترقیاتی ادارہ اسلام آباد میں موجود تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ سرکاری و نجی دفاتر اور عمارتوں میں بھی فائر سیفٹی کے حوالے سے جائزہ مکمل کیا جائے اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اجلاس کو وزارت قومی صحت کی جانب سے پمز ہسپتال کی بہتری اور اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز ہسپتال کے کارکردگی جائزے میں جانچ کیے گئے اشاریوں میں قابل قبول ہدف کے مقابلے میں صرف انتالیس اعشاریہ سات فیصد عملدرآمد پایا گیا، جبکہ ہدف نوے فیصد مقرر تھا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں سینتیس مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے۔ اجلاس میں قلیل، وسط اور طویل مدتی اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، معاون خصوصی مختار احمد بھرتھ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔












