
از: سہیل شہریار
حالیہ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی ڈالر عالمی مالیاتی ذخائر میں بتدریج اپنی جگہ کھو رہا ہے کیونکہ مرکزی بینک تیزی سے دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی سے سونے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔مارچ کے آخر میںامریکی ڈالر کل عالمی زرمبادلہ ذخائر کا 57 فیصد تھا۔ مگر اس کے بعد سے دو ہفتوں میں عالمی زرمبادلہ ذخائر کے ڈالر سے تناسب میں حیران کن طور پر 1100 بیس پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔
مالیاتی رپورٹس کے مطابق اس وقت عالمی زرمبادلہ اور سونے کے ذخائر میں ڈالر کا حصہ تقریباً 46 فیصد ہے جو 26 سالوں میں اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ڈالرپر دنیا بھرکے مرکزی بینکوں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اب دوبارہ سونا گرین بیک سے زیاد ہ قابل بھروسہ بن گیا ہے۔
اگر سونے کے ذخائر کو الگ رکھتے ہوئے امریکی ڈالر کی زرمبادلہ کرنسی کے طور پر مقام کو دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کے تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ڈالر اب عالمی ریزرو کرنسیوں کا تقریباً 57 فیصد ہے۔یہ تبدیلی مرکزی بینکوں کے سونے کی خریداری میں اضافے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ ہے۔ جبکہ متبادل کرنسیوں میں ہولڈنگزاور لین دین میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جو عالمی سطح پر زرمبالہ کے ذخائر کے انتظام میں تنوع کی طرف بتدریج اقدام کی عکاسی کرتا ہے۔
تاریخی طور پر آخری بار 1990-91میں ڈالر کا زر مبادلہ کے عالمی ذخائر میں حصہ 50 فیصدکی سطح سے نیچے گیا تھا۔ جب مہنگائی بہت زیادہ تھی، کساد بازاری ایک خطرہ تھا، اور ہر جگہ خراب معاشی منظرنامہ تھا۔
امریکی ڈالردوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی رہاہے۔ اور آج کل بھی 80 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی تجارت اسی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میںڈالر کے متبادل کے بارے میں بات زور پکڑ رہی ہے۔ خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں، اور اس کی سربراہی ترقی پذیر معیشتوں کا بلاک برکس گروپ کر رہاہے۔ جس میں جنوبی افریقہ، برازیل، روس، بھارت اور چین پر مشتمل بانی اراکین کےساتھ مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی حالیہ برسوں میں شامل ہوئے ہیں۔
اگرچہ امریکہ، دنیا کی سرکردہ معیشت کے طور پر، تاریخی طور پر عالمی تجارت پر غلبہ رکھتا ہے۔ مگر یہ اثر و رسوخ گزشتہ دہائی کے دوران کم ہوا ہے۔ چین نے برتری حاصل کی ہے۔ خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں جو دنیا کی 85 فیصد آبادی اور عالمی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 50 فیصد ہے۔
اقوام متحدہ کے ڈیٹا بیس کے مطابق چین 2024 میں براعظم افریقہ کی زیادہ تر درآمدات کا ذریعہ تھا۔ اس کے بعد یورپی یونین، بھارت اور امریکہ تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے مقامی کرنسیوں میں دو طرفہ تجارت اب معاشی اعتبار سے اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔یہ اس لئے بھی ہے کہ ہر بار جب آپ ڈالر میں کوئی لین دین کرتے ہیں تو ایک پوشیدہ قیمت امریکہ کو واپس جاتی ہے۔ اوراب دنیا بھر کے ممالک نے بجا طور پر یہ سوال کرنا شروع کر دیا ہے کہ انہیں یہ قیمت امریکہ کو کیوں ادا کرنی چاہیے؟
موجودہ سوئفٹ نظام میں بیچنے والے کی کرنسی میں تبدیل ہونے سے پہلے خریدار کی مقامی کرنسی امریکی ڈالر میں تبدیل ہونےکے دوران دونوں فریقوں کو کچھ آمدنی کھونا پڑتی ہے۔ مگر اب براہ راست لین دین میں اس نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔












