
از: سہیل شہریار
معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد سےبھارتی روپے کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا سامنا ہے۔جو بھارتی انتہا پسند ہندو حکومت کی حکمت سے خالی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مئی 2025 میںمعرکہ حق کےبعد انٹربینک ریٹ میں پاکستانی روپے نے اپنے بھارتی مدمقابل کو پچھاڑ دیا ہے۔15 مئی 2025 کو ایک ہندوستانی روپیہ 3.29 پاکستانی روپےکے برابر تھا۔جو ایک سال بعد 18 مئی 2026 تک 11.86 فیصد کم ہو کر 2.90 پر آ گیا ہے۔اس میں بھارتی روپے کی مالیت میں 2026 کے دوران اب تک 6.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مزید براں پاکستانی روپے نے زیر بحث مدت کے دوران بھارتی روپےکے مقابلے میںاپنے اعلیٰ مقام کو مضبوط اور برقرار رکھا ہے۔ حالانکہ دونوں معیشتوں کو بیرونی دباؤ جیسے کہ عالمی افراط زر کے رجحانات اور خلیجی جنگ کی وجہ سے اقتصادی جھٹکوں کا سامنا ہے۔
کرنسی مارکیٹ کےپنڈتوں کا کہنا ہے کہ معرکہ حق کے بعد سے ہندوتوا پر مبنی بھارتی حکومت کی تمام پالیسیاں بری طرح ناکامی سے دوچار ہیں جسکے نتیجے میں نہ صرف بھارت کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے ۔ساتھ ہی معیشت کو بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔دوسری جانب پاکستان عالمی سطح پر امن کے داعی کی حیثیت سے ابھر ا ہے۔جس میں اسرائیل امریکہ۔ ایران جنگ کے خاتمے کے لئے اسکے ثالث کے طور پر کردار نے اس بین الاقوامی قد کاٹھ کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔اور اسی کی بدولت بھارت کے 600ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے میں محض 20ارب ڈالر کے ذخائر رکھنے والے ملک کی معیشت سنبھلی ہوئی ہے۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پچھلے سال پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نئےپروگرام میں داخل ہونے کے تناظر میں یہ موازنہ زیادہ متعلقہ ہو جاتا ہے۔ اورتب سے اب تک پاکستانی روپے کے متضاد بھارتی روپیہ کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایشیائی کرنسیوں میں
شامل ہے۔حتیٰ کہ بنگلہ دیشی ٹکا سمیت دیگر علاقائی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی بھارتی روپےکی قدر میں کمی آئی ہے۔
اگرچہ عالمی عوامل جیسے کہ امریکی ڈالر کی طاقت میں کمی بیشی اور جنگ کے جھٹکوں نے کرنسی کی بین الاقوامی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔مگر متعدد کرنسیوں کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے پتہ چلتا ہے بھارتی معیشت کے تالاب میں پانی سے زیادہ گندگی ہے۔اسی بنا پر امریکہ ۔ ایران جنگ کے خاتمے اور متعلقہ معاشی دباؤ کے ذائل ہونے کے بعد بھی ہندوستانی روپیہ مستقبل قریب کے لیے نیچے کی طرف دباؤ میں رہے گا۔












