لندن (پاک ترک نیوز)مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے دنیا بھر میں جوہری توانائی کے منصوبوں کو نئی رفتار دے دی۔ عالمی سطح پر زیر تعمیر جوہری ری ایکٹرز کی تعداد 79 تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 40 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
لندن سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق فوسل فیول یعنی تیل، گیس اور کوئلے کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب بھی نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر میں اضافے کی اہم وجہ بن رہی ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی، جدید کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کے باعث اخراجات اور ماحولیاتی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں جوہری توانائی کو مسلسل بجلی فراہم کرنے والے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا نیا فلین کروز میزائل پہلی بارمنظرِ عام پر
دنیا بھر میں 79 جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب صرف ٹیکنالوجی کی دنیا ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔












