ریاض(پاک ترک نیوز)دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کا اعزاز حاصل کرنے والا سعودی عرب کا جدہ ٹاور تعمیر کے ایک بڑے سنگِ میل کے قریب پہنچ گیا۔ منصوبے کی ٹیم کے مطابق عمارت کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور جلد یہ اپنی مجموعی بلندی کا نصف حصہ مکمل کر لے گی۔
امریکی جریدے نیوز ویک کے مطابق جدہ ٹاور اب 121ویں منزل تک پہنچ چکا ہے اور اس کی بلندی تقریباً 484 میٹر یعنی ایک ہزار 587 فٹ ہو گئی ہے۔ عمارت کی 125ویں منزل اس کی نصف بلندی کا سنگِ میل ہوگی، جس کے بعد تعمیر کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔
منصوبے کے مطابق مکمل ہونے پر جدہ ٹاور کی بلندی تقریباً ایک ہزار میٹر یعنی 3 ہزار 281 فٹ ہوگی، جو دبئی کے برج خلیفہ سے کہیں زیادہ ہے۔ برج خلیفہ اس وقت 828 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔
تعمیراتی ٹیم کے مطابق اس وقت ہر ماہ تقریباً چار منزلیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور نصف بلندی کا سنگِ میل نومبر کے اختتام کے قریب حاصل ہونے کی توقع ہے۔
جدہ ٹاور کے آرکیٹیکٹ بین جانسن کے مطابق منصوبہ بظاہر اگست 2028 تک مکمل ہونے کے ہدف پر قائم ہے، تاہم عمارت کے ڈھانچے کی تکمیل اور اسے مکمل طور پر فعال کرنے کے مراحل مختلف ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی کی پولیس سے جھگڑے کے کیس میں ضمانت منظور
اس عمارت میں تقریباً 630 میٹر کی بلندی پر ایک وسیع آؤٹ ڈور آبزرویشن ڈیک بھی تعمیر کیا جائے گا، جہاں سے شہر اور گردونواح کا نظارہ کیا جا سکے گا۔ اس کے لیے خصوصی فولادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد جدہ ٹاور نہ صرف برج خلیفہ سے بلند ہوگا بلکہ جدید تعمیراتی انجینئرنگ اور سعودی عرب کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم اضافہ بھی ثابت ہوگا۔







