لاہور( پاک ترک نیوز) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی واپس نہ لی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں میں اب عام آدمی بھی شریک ہو رہا ہے، ملک بھر میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے اور بارہ ربیع الاول کے بعد ہفتے میں ایک دن ملک گیر ہڑتال کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کا کہہ رہی ہے، تاہم جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ حکومتی نمائندے دھرنے میں آکر مذاکرات کریں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤسز کے باہر جاری دھرنے اپنی جگہ برقرار رہیں گے، تاہم اب احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ پورے ملک تک بڑھایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ان دھرنوں میں اب عام آدمی بھی شریک ہو رہا ہے اور مہنگائی صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کا مسئلہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے میڈیا سمیت تمام طبقات سے مطالبہ کیا کہ عام آدمی کو ریلیف دلانے کے لیے جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیا جائے۔جماعت اسلامی کے امیر نے خیبر پختونخوا میں لاکھوں شہریوں کے شناختی کارڈز بلاک ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ان کے مطابق کے پی میں تقریباً 6 لاکھ پاکستانیوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں، جو ان کے بقول نادرا کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں احتجاجی کیمپ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ عوامی مسائل کو اجاگر کیا جاسکے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں آئی پی پیز کے خلاف دھرنا دیا اور اس احتجاج کے نتیجے میں پانچ آئی پی پیز بند ہوئے۔ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے بھی تسلیم کیا کہ آئی پی پیز سے متعلق معاہدوں کے باعث قومی خزانے پر 3360 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ باقی آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ ان کے بقول ایسا کرنے سے بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے بجلی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز پر بھی شدید تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، اس کے باوجود صارفین سے ہزاروں ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹس وصول کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر بجلی صارف پر فکس چارج عائد کردیا گیا ہے، جبکہ عام آدمی مسلسل مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں اشرافیہ کو مختلف شعبوں میں سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ عام آدمی پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم کردی جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 200 سے 250 روپے تک کمی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کی ہے، لیکن عوام کو اس سے کہیں زیادہ ریلیف دیا جا سکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو اسلام آباد آکر مذاکرات کرنے کا کہا ہے۔جماعت اسلامی نے حکومت سے کہا ہے کہ دھرنے میں آکر مذاکرات کیے جائیں۔ اگر حکومت لیوی کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹتی تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ ربیع الاول کے دوران دھرنوں کے مقامات پر سیرت کانفرنسیں بھی منعقد کی جائیں گی۔ان کے مطابق 12 ربیع الاول کے بعد ہفتے میں ایک دن پورے ملک میں ہڑتال کی کال دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی شرط ،کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے کی تیاری
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس اسلام آباد آنے کا آپشن بھی موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر ملک بھر سے لوگ پیدل مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔امیر جماعت
اسلامی نے ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔












