لاہور( پاک ترک نیوز) پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے جاری ہیں۔ کراچی، لاہور اور پشاور میں کارکنوں کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوسرے روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارا دھرنا کسی کی ذات کے لیے نہیں بلکہ صرف عوام کے لیے ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے اور مہنگائی کے باعث ہر شخص پریشان ہے، لوگوں کے لیے گھر کا گزارا کرنا مشکل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پورے پاکستان کے عوام کی ترجمان ہے، حکومت کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کے بل عوام کے گھروں پر بم بن کر گر رہے ہیں، 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے کو محفوظ صارف قرار دینا بھی ایک فراڈ ہے، کیونکہ 200 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین مزید مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے بجلی کے منصوبوں اور نجی بجلی گھروں کے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاور پلانٹس میں عوام کے ساتھ فراڈ کیا گیا، پلانٹس لگانے کے اخراجات حکومت نے برداشت کیے جبکہ قرضوں کا سود بھی عوام ادا کررہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شریف اور زرداری خاندان کے مفادات نجی بجلی گھروں میں شامل ہیں اور جب عدلیہ آزاد ہوگی تو نجی بجلی گھروں کے معاملات کا فرانزک آڈٹ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ سال کی رپورٹ میں سامنے آیا کہ بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم تھی، تاہم ٹیکسز زیادہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں، عالمی قیمتوں اور جنگ کا حوالہ دے کر عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا چاروں صوبوں میں احتجاج
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زیادہ جمع کرچکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ عوامی مفاد کے لیے ہے، کراچی اور پشاور میں بھی دھرنے جاری ہیں اور عوامی مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔












