اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کے لیے حکومت نے زرعی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف پورے نہ ہوئے تو حکومت کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر غور کرے گی۔ صوبوں کو 30 ستمبر تک مہلت دی جائے گی، جبکہ ہدف حاصل نہ ہونے کی صورت میں اکتوبر میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔
پاکستان میں زرعی شعبہ ایک بار پھر ٹیکس اصلاحات کے مرکز میں آگیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو زرعی انکم ٹیکس کے معاملے پر مطمئن کرنے کے لیے متبادل لائحہ عمل کی تیاری شروع کردی ہے۔صوبوں کے اشتراک سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور ٹیکس گوشواروں کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت نے صوبوں کو 30 ستمبر 2026 تک کا وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس مدت کے دوران صوبوں کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور گوشوارے جمع کرانے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔اگر صوبے مقررہ مدت تک مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو موجودہ طریقہ کار کے تحت ہی معاملہ آگے بڑھایا جائے گا۔
لیکن اگر اہداف پورے نہ ہوئے تو حکومت متبادل حکمت عملی پر عمل درآمد کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2026 میں صوبوں کے ساتھ فکسڈ ٹیکس اسکیم پر مشاورت کا امکان ہے۔مجوزہ اسکیم کے تحت کاشتکاروں اور زمینداروں سے آمدن کی بنیاد پر ٹیکس وصول کرنے کے بجائے ایک مقررہ رقم وصول کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔اس حوالے سے فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک فکس انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔تاہم یہ رقم حتمی نہیں اور فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی صورت میں اس کی شرح اور طریقہ کار پر صوبوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔
حکومت کا یہ اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مالیاتی اصلاحات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کی دستاویز کے مطابق ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ تقریباً 24.5 فیصد ہے، تاہم مجموعی ٹیکس وصولی میں زرعی شعبے کا حصہ صرف 0.3 فیصد بتایا گیا ہے۔
حکومت اب اسی خلا کو کم کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر زرعی ٹیکس وصولی کا نظام بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر موجودہ نظام سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو تاجروں کی طرز پر کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے بھی فکس ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔
اس کا مقصد زرعی شعبے کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانا اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی اہداف کو پورا کرنا ہے۔تاہم فکسڈ ٹیکس اسکیم کا حتمی فیصلہ صوبوں سے مشاورت اور 30 ستمبر تک حاصل ہونے والی ٹیکس وصولی اور گوشواروں کی صورتحال دیکھنے کے بعد کیا جائے گا۔












