واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) جنگی بحری جہاز پر طویل عرصے تک سمندر میں رہنا بظاہر ایک پرجوش تجربہ دکھائی دیتا ہے، لیکن امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر طویل تعیناتی کے دوران اہلکاروں کو مبینہ طور پر خوراک کی کمی، خراب پلمبنگ، مسلسل تھکن اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
امریکی بحریہ کے سابق فوٹوگرافر جونی برنل نے 2001 میں افغانستان جنگ کے دوران یو ایس ایس کارل ونسن پر 111 دن گزارے تھے۔وہ جہاز کے مختلف حصوں میں جانے کی اجازت رکھتے تھے ان کے مطابق ابتدائی جوش و خروش چند ماہ بعد عملے کی اداسی اور ذہنی تھکن میں بدل گیا۔برنل کا کہنا ہے کہ بعض اہلکاروں کی آنکھوں میں ایسی بے حسی اور اداسی نظر آنے لگی تھی جسے وہ آج بھی نہیں بھول سکے۔ برنل کا کہنا ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصے کی تعیناتی کے دوران انہوں نے عملے کے رویوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی۔ ابتدائی جوش و خروش وقت گزرنے کے ساتھ اداسی اور ذہنی تھکن میں تبدیل ہوگیا۔سابق بحری اہلکار جونی برنل کے مطابق جہاز کے نچلے حصوں میں ڈیوٹی دینے والے بعض اہلکار طویل عرصے تک اوپری ڈیک تک بھی نہیں پہنچ پاتے، یعنی کئی کئی دن آسمان دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکار اس سے کہیں زیادہ طویل عرصے سے سمندر میں موجود ہیں، جس پر انہیں شدید تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی ایران پر نئی امریکی پابندیوں کی مخالفت
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کو مبینہ طور پر خوراک کی کمی، خراب پلمبنگ، مسلسل شور، ارتعاش اور شدید تھکن جیسے مسائل کا سامنا ہے۔اہل خانہ نے بھی بعض اہلکاروں کی ذہنی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک اہلکار کے رشتہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے فرد کا وزن تقریباً 29 کلوگرام کم ہوچکا ہے اور مسلسل شور و ارتعاش کے باعث وہ شدید تھکن کا شکار ہیں۔کچھ اہلکاروں کے مبینہ طور پر سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔تاہم امریکی فوجی حکام نے جہاز پر سنگین نوعیت کے مسائل کی تردید کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے سمندر میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینا انتہائی مشکل اور ہر کسی کے لیے موزوں نہیں، تاہم ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح توجہ کی مستحق ہے۔












